اسلام آباد (اے بی این نیوز ) اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ اور اپوزیشن سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا دورہ کیا جہاں انہیں عمران خان کی آنکھوں سے متعلق تفصیلی میڈیکل رپورٹ پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ گوہر علی خان بھی موجود تھے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ وہ ملاقات کے لیے گئے تھے لیکن ڈاکٹر نہیں ہیں، جس سے واضح ہوا کہ وہ طبی ماہر کے طور پر نہیں بلکہ سیاسی رہنما کی حیثیت سے موجود تھے۔رپورٹ کے مطابق عمران خان کا معائنہ 15 فروری 2026 کو ماہر امراض چشم پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے کیا۔ دائیں آنکھ کی بینائی عینک کے بغیر 6/24 (پارشل) تھی جو عینک کے ساتھ بہتر ہو کر 6/9 پارشل ہو گئی، جبکہ بائیں آنکھ کی بینائی عینک کے بغیر 6/9 اور عینک کے ساتھ 6/6 ریکارڈ کی گئی۔ دائیں آنکھ میں سوزش اور خون کے بہاؤ سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی گئی تاہم سوجن میں نمایاں کمی آئی ہے اور موٹائی 550 سے کم ہو کر 350 ہو چکی ہے۔ ڈاکٹروں نے نیواناک، سسٹین الٹرا اور کوسوپٹ آئی ڈراپس تجویز کیے ہیں جبکہ مزید ٹیسٹس جن میں او سی ٹی اینجیوگرافی اور ایف ایف اے شامل ہیں، کروانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔اپوزیشن رہنماؤں نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ عمران خان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر خرم مرزا کو بھی فون پر تفصیلات سے آگاہ کیا گیا جنہوں نے جاری علاج پر اعتماد کا اظہار کیا۔
میں ملاقات کے لیے گیا تھا لیکن میں ڈاکٹر تو نہیں، علامہ راجہ ناصر عباس pic.twitter.com/QVoTTxp6OC
— Zubair Ali Khan (@ZubairAlikhanUN) February 16, 2026
مزید پڑھیں :عمران خان کی آنکھ تقریباً 95 فیصد تک بہتر ہو چکی ہے،محمود خان اچکزئی کا دعویٰ















