اسلام آباد(اے بی این نیوز)پدری رخصت سے انکار، وفاقی محتسب نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو پانچ لاکھ جرمانہ کر دیا۔
جس میں سے چار لاکھ روپے بطور ہرجانہ شکایت کنندہ کو ادا کیے جائیں گے جبکہ ایک لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے جائیں گے: فیصلہ
آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آرٹیکل 38 عوام کی سماجی اور معاشی فلاح و بہبود کی ضمانت دیتا ہے: فیصلہ
باسط علی نے اسٹیٹ بینک کیخلاف دسمبر 2025 میں درخواست دائر کی تھی۔
Maternity and Paternity Leave Act, 2023 کے تحت 30 دن کی پدری رخصت کی درخواست محض اس بنیاد پر مسترد کر دی گئی
کہ متعلقہ پالیسی موجود نہیں،حالانکہ قانون نافذ العمل تھا: درخواست گزار
حتمی حکم میں وفاقی محتسب نے قرار دیا کہ پدری رخصت سے انکار، پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ دی ورک پلیس ایکٹ، 2010 کے تحت صنفی بنیادوں پر امتیاز کی صورت میں ہراسمنٹ کے مترادف ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک مرد ملازم کو پدری رخصت دینے سے انکار کیا: حالانکہ اسی وفاقی قانون کے تحت خواتین ملازمین کو Maternity Leave دی جا رہی تھی۔
صنفی امتیاز ثابت شدہ اور ناقابلِ تردید ہے،اسٹیٹ بینک پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی گئی ہے کہ شکایت کنندہ کو مکمل تنخواہ کے ساتھ 30 دن کی پدری رخصت دی جائے۔
اور اپنی لیو پالیسی کو Maternity and Paternity Leave Act, 2023 سے مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔عمران خان کے مقدمات بارے یقین دہانی کروا دی گئی















