اہم خبریں

ریاستی سختی اور گرفتاریوں نے سیاسی ماحول بدل دیا،شیرافضل مروت

اسلام آباد (اے بی این نیوز) رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت نے کہا کہ تحریک انصاف کے بانی اس وقت صرف اللہ کے رحم و کرم پر ہیں اور ان کی صحت کے معاملے پر مؤثر سیاسی حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت بروقت اور مضبوط لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہی جس کے باعث کارکنوں میں مایوسی پھیلی۔

شیرافضل مروت کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندرونی اختلافات نے کارکنوں کا اعتماد مجروح کر دیا ہے۔ ان کے مطابق چھوٹے چھوٹے احتجاجوں کے بجائے ایک منظم اور ملک گیر تحریک کی ضرورت تھی، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے بعد کئی رہنما عملی طور پر منظر سے غائب رہے اور سوشل میڈیا مہم کو قومی بیانیہ بنانے کا موقع ضائع کر دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اہم مسئلے کو سنجیدہ عوامی دباؤ میں تبدیل نہیں کیا جا سکا اور کارکن مسلسل سوال کر رہے ہیں کہ قیادت خاموش کیوں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے احتجاج کی کال دی انہیں ہی پروپیگنڈا قرار دے دیا گیا، جبکہ تحریک کو منظم کرنے کے بجائے داخلی اختلافات بڑھتے گئے۔

شیرافضل مروت نے کہا کہ کارکنان جارحانہ سیاسی حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن گروپ بندی اور اندرونی اختلافات ان کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں۔ کارکنوں کو واضح سمت اور اخلاقی یقین دہانی نہیں دی گئی اور احتجاجی طاقت کو منظم انداز میں استعمال نہیں کیا گیا۔اے بی این نیوز کے پروگرام ’’ڈیبیٹ@8‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے

کہا کہ دو ماہ کا وقت دیا گیا مگر گلی محلے کی سطح پر کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی۔ 9 مئی کے بعد ریاستی سختی اور گرفتاریوں نے سیاسی ماحول کو بدل دیا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی تحریک ایک دن کے مجمع پر نہیں بلکہ مہینوں کی استقامت، منظم حکمت عملی اور مستقل جدوجہد پر مبنی ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں :عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ , میڈیکل بورڈ تشکیل

متعلقہ خبریں