اہم خبریں

وفاقی اداروں کے منافع میں 13 فیصد کمی، سرکاری اداروں کو 832 ارب روپے سے زائد کا نقصان

اسلام آباد (رضوان عباسی )شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت کے دوران سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) کے مجموعی منافع میں 13 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے سرکاری اداروں کو مجموعی طور پر 2 ہزار 164 ارب روپے کی حکومتی گارنٹیز فراہم کیں، جب کہ گزشتہ مالی سال کے دوران سرکاری اداروں کو مجموعی طور پر 832 ارب 80 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
اے بی این نیوز کو موصول ہونے والی سرکاری ملکیتی اداروں کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال سب سے زیادہ نقصان نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ہوا، جس کا خسارہ 295 ارب روپے رہا۔
اسی عرصے میں کیسکو کو 112 ارب 70 کروڑ روپے اور پیسکو کو 92 ارب 70 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا نقصان 48 ارب 90 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ریلویز کا خسارہ 60 ارب 30 کروڑ روپے رہا۔ اسی طرح سیپکو کو 25 ارب 30 کروڑ روپے، لیسکو کو 12 ارب 70 کروڑ روپے، پاکستان اسٹیل ملز کو 26 ارب روپے اور حیسکو کو 13 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ آئیسکو کا نقصان ایک ارب 40 کروڑ روپے جبکہ پاکستان پوسٹ کو 19 ارب 30 کروڑ روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔
تاہم سالانہ بنیادوں پر سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات میں 2 فیصد کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دوسری جانب رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال سرکاری ملکیتی اداروں کا مجموعی منافع 709 ارب روپے رہا، تاہم اس کے باوجود سالانہ بنیادوں پر منافع میں 13 فیصد کمی دیکھی گئی۔ سب سے زیادہ منافع آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی نے کمایا، جو 170 ارب روپے رہا۔
اسی طرح پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کا منافع 90 ارب روپے اور نیشنل بینک آف پاکستان کا منافع 57 ارب روپے رہا۔
دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران سرکاری ملکیتی اداروں کو مجموعی طور پر 2 ہزار 78 ارب روپے کی مالی معاونت بھی فراہم کی۔

مزید پڑھیں :سونا اپ ڈیٹ آگئی،خریداروں کیلئے بڑی خوشخبری،تاریخی سونا سستا،جا نئے فی تولہ قیمت

متعلقہ خبریں