لاہور (اے بی این نیوز )وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بچوں کی کامیاب ہارٹ سرجریوں پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بے حد شکر گزار ہیں کہ معصوم بچوں کی جانیں بچانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ماؤں کے چہروں پر خوشی دیکھ کر انہیں دلی سکون ملا اور یہ لمحات ان کے لیے ناقابلِ بیان مسرت کا باعث ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بچوں کی بیماری والدین کے لیے ایک بڑی آزمائش ہوتی ہے اور دل کے امراض میں مبتلا بچے انتظار کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی تکلیف کو سمجھنا اور محسوس کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اسی لیے بچوں کے علاج کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دل کے امراض کا علاج نہ صرف مہنگا بلکہ انتہائی سپیشلائزڈ ہوتا ہے، تاہم کسی بھی بچے کی جان یا صحت کے ساتھ سمجھوتہ ناقابل قبول ہے کیونکہ ہر بچہ قیمتی ہے۔
مریم نواز نے بتایا کہ ایک سال کے دوران 10 ہزار 300 سے زائد بچوں کی سرجری مکمل کی گئی، جن میں اوپن ہارٹ سرجریاں بھی شامل ہیں، جبکہ ماضی میں سالانہ تعداد تقریباً 3 ہزار تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب ہر سال دگنی سے زائد بچوں کا علاج ممکن بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق چلڈرن ہسپتال لاہور میں پنجاب سمیت ملک بھر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی بچے علاج کے لیے آتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ مارچ میں لاہور میں ایک ہزار بیڈز پر مشتمل نیا چلڈرن ہسپتال فعال ہو جائے گا، جبکہ نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ ہسپتال میں جدید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا ہسپتال ان بیماریوں کے علاج کے لیے بھی کام کرے گا جن کا علاج پہلے پاکستان میں دستیاب نہیں تھا اور اس میں سپیشلائزڈ ڈاکٹرز اور متعلقہ ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
مریم نواز نے تمام کارڈیولوجسٹ، نرسز اور ہیلتھ اسٹاف کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور خدمت سے قیمتی جانیں بچ رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میانوالی میں بھی دل کے علاج کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے تاکہ شہریوں کو بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت کا شعبہ سب سے بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ معمولی کوتاہی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاہور، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بچوں کا بھی علاج کیا گیا، جبکہ ایک چار سالہ بچے کی اوپن ہارٹ سرجری کامیابی سے مکمل کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ نیا ہسپتال صرف پنجاب نہیں بلکہ پاکستان بھر کے بچوں کے لیے ہوگا۔
مریم نواز نے کہا کہ 100 ارب روپے کی مفت ادویات کی فراہمی کے باوجود مریض سے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا جائے گا اور سرکاری ہسپتال میں ہر مریض کا مکمل علاج مفت ہونا چاہیے۔ انہوں نے فیصل آباد جنرل ہسپتال میں دو ماہ کے بچے کے اغوا کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فوری کارروائی کے بعد بچے کو والدین کے حوالے کر دیا گیا۔ مزید برآں ایک ہزار بیڈز پر مشتمل نواز شریف کینسر ہسپتال بھی تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔
مزید پڑھیں :عمران خان کو دو ماہ تک اڈیالہ سے کہاں منتقل کیا جائیگا،وزیر داخلہ نے بتا دیا،جا نئے تفصیلات















