اسلام آباد(اے بی این نیوز)سینیٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کی صحت سے متعلق پیش کی گئی قرارداد کثرتِ رائے سے مسترد کردی گئی، جس کے بعد اپوزیشن اراکین نے ایوان میں شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر عون عباس بپی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش کی۔ حکومتی اراکین نے قرارداد کی مخالفت کی، اور ووٹنگ کے بعد قرارداد منظور نہ ہوسکی۔ قرارداد مسترد ہونے پر پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز چیئرمین ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔
اس موقع پر رانا ثنا اللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن لیڈر بانی پی ٹی آئی کی صحت پر بات کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے قرارداد پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی جیل میں رہائش اور دیگر سہولیات سے متعلق صورتحال واضح کردی گئی ہے۔ ان کے مطابق وکیل سلمان صفدر نے بھی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں سیکیورٹی انتظامات پر مطمئن ہیں۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جیل کے ڈاکٹر باقاعدگی سے ہر دوسرے روز طبی معائنہ کرتے ہیں جبکہ اب تک بیرونی ڈاکٹروں کی جانب سے بھی 25 مرتبہ چیک اپ کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر عدالت نے فریقِ معاون مقرر کیا ہے اور اگر عدالت کسی اور ڈاکٹر سے معائنہ کرانے کا حکم دیتی ہے تو حکومت اس پر مکمل عمل درآمد کرے گی۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آنکھوں کی بینائی اچانک ختم نہیں ہوسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے میں غفلت برتی گئی اور جن ڈاکٹروں سے معائنہ کرایا گیا وہ متعلقہ مرض کے ماہر نہیں تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وکلا اور اہلخانہ کو طبی معائنے سے متعلق آگاہ کیوں نہیں کیا گیا۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں جرنیلوں، بیوروکریٹس یا ججوں کو جیلوں میں نہیں دیکھا جاتا، صرف سیاستدانوں کو قید کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹس کو مکمل طور پر منظر عام پر لایا جائے اور اگر کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔پاسپورٹ بنوانے والوں کیلئے نئی فیسوں کا اعلان















