اسلام آباد(اے بی این نیوز)وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طلبا کے لیے سکول ’مِیل پروگرام‘ کی تفصیلات جاری کر دیں۔ وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے مطابق اس وقت وفاقی دارالحکومت کے 254 تعلیمی اداروں میں قریباً 57,045 طلبا کو روزانہ مفت لنچ فراہم کیا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (FDE) کے تحت چلنے والے 222 وفاقی سرکاری سکولوں میں کھانے کی فراہمی جاری ہے۔
اس منصوبے کے لیے حکومت 75 فیصد فنڈنگ فراہم کر رہی ہے، جبکہ بقیہ 25 فیصد اخراجات اور لاجسٹکس کی ذمہ داری اللہ والے ٹرسٹ ادا کر رہا ہے۔ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں کے 60 سکولوں میں 25 ہزار 397، سہالہ کے 56 سکولوں میں 12,404، نیلور کے 40 سکولوں میں 6,843، بھارہ کہو کے 37 سکولوں میں 5,782، ترنول کے 29 سکولوں میں 6,619 اور مجموعی طور پر 222 سکولوں میں 57,045 طالبعلموں کو روزانہ کی بنیاد پر دپہر کا کھانا دیا جاتا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسپیشل ایجوکیشن کے تحت 05 خصوصی تعلیمی مراکز میں بھی مفت کھانے فراہم کیے جا رہے ہیں، جن میں بصری، سماعت اور جسمانی معذوری کے شکار بچوں کے مراکز شامل ہیں۔ ان اداروں میں اس سہولت کا آغاز 22 جنوری 2025 سے کیا گیا۔ اس کے علاوہ 28 بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولوں میں بھی مفت کھانے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سکول ’مِیل پروگرام‘ کا باقاعدہ آغاز فروری 2022 میں 40 پرائمری سکولوں سے کیا گیا تھا۔ اپریل 2024 میں وزارت تعلیم کی جانب سے فنڈز کی فراہمی کے بعد اس پروگرام کے دائرہ کار میں نمایاں اضافہ کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند طلبہ کی غذائی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں۔سابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے ڈیڑھ سال میں 25 مرتبہ عمران کا چیک اپ کروایا















