ڈھاکہ ( اے بی این نیوز ) بنگلا دیش میں قومی انتخابات کے ساتھ ساتھ ایک اہم قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا، جسے ملک کے مستقبل کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے کے تعین کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق اس ریفرنڈم کے ذریعے عوام سے نیشنل چارٹر کے تحت وسیع آئینی اصلاحات سے متعلق تجاویز پر رائے لی گئی۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ اصلاحات میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے دو مدتوں کی حد مقرر کرنے کی تجویز شامل ہے، تاکہ اقتدار کی مدت کو محدود کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ مستقبل کے عام انتخابات کے لیے غیر جانبدار نگران حکومت کی بحالی کی تجویز بھی ریفرنڈم کا حصہ ہے، جس کا مقصد انتخابی عمل کو شفاف اور قابل اعتماد بنانا بتایا جا رہا ہے۔
مزید برآں، تجاویز میں پارلیمنٹ کے لیے ایوان بالا کے قیام کی شق بھی شامل ہے، جس سے ملک میں دو ایوانی مقننہ کا نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اصلاحات بنگلا دیش کے سیاسی نظام میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ریفرنڈم کے حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد واضح ہوگا کہ عوام نے ان آئینی تجاویز کی کس حد تک حمایت کی ہے اور ملک کے آئندہ سیاسی خدوخال کیا ہوں گے۔
مزید پڑھیں :عمران خان کو جیل سے باہر نکالنے کیلئے گرین سگنل دیدیا گیا، جا نئے کس کے فیصلے کا انتظار ہے،بڑا انکشاف















