اہم خبریں

جیل میں خودکشی کے خیالات آتے تھے، ناصر جمشید نے میچ فکسنگ پر معافی مانگ لی

لاہور(اے بی این نیوز)سابق پاکستانی کرکٹر ناصر جمشید نے میچ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ جیل میں وقت گزارنا ان کے لیے انتہائی مشکل تھا اور انہیں خودکشی کے خیال آتے تھے۔

ناصر جمشید نے نئی کرکٹرز کو نصیحت کی کہ اگر کوئی بدعنوانی کی پیشکش کرے تو فوراً متعلقہ حکام کو رپورٹ کریں کیونکہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف کیریئر بلکہ خاندان پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ والد کے ایکسیڈنٹ میں برین ہیمرج اور گھریلو مالی مشکلات کے سبب وہ شارٹ کٹ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ ناصر جمشید کا کہنا تھا کہ وکیل نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ اعتراف جرم نہ کریں اور کرکٹ بورڈ سے رابطہ ختم کر دیں تاہم ان کے مطابق اگر وہ غلطی مان لیتے تو شاید آج وہ موجودہ مقام پر نہ ہوتے اور اپنا کیریئر بچا سکتے تھے۔

انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین سے درخواست کی کہ ان پر لگائی گئی پابندی کے آخری ایک سال کو معاف کیا جائے۔ ناصر جمشید نے بتایا کہ خودکشی کا خیال اکثر آتا تھا لیکن بیٹی اور خاندان کے سوچنے سے وہ زندہ رہ سکے۔

یاد رہے کہ مانچسٹر کراؤن کورٹ نے ناصر جمشید کو اسپاٹ فکسنگ پر 17 ماہ قید کی سزا سنائی تھی جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے انسداد کرپشن یونٹ نے تحقیقات کے بعد انہیں 10 برس تک کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی تھی۔ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقات کے بعد ناصر جمشید کو 2017 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں۔ہماری مانگیں پوری کرو، انڈیا میں 30 کروڑ ملازمین کی ’بھارت بند‘ ہڑتال کا آغاز

متعلقہ خبریں