اسلام آباد (اے بی این نیوز) پی ٹی آئی کے رہنما نعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا کہ بسنت منانے کا مقصد حکومت یا عوامی توجہ ہٹانے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی حکومت نے 2018 میں بسنت منانے کا اعلان کیا تھا جبکہ 2008 سے 2018 تک پنجاب میں بسنت نہیں منائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بسنت ایک عوامی تہوار ہے اور اس میں مذہبی تنازعہ نہیں ہے۔ وہ اے بی این نیوز کے پروگرام تجزیہ میں گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ
نعیم حیدر نے مزید بتایا کہ لاہور میں بسنت کی تقریبات کے دوران حکومت نے مختلف پابندیاں اور اقدامات کیے، اور سرگودھا میں کچھ افراد ایم پی او کے تحت جیل میں بند کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی کارروائیوں کا مقصد عوامی شمولیت یا شٹر ڈاؤن کالز کو ناکام بنانا تھا، جبکہ بیرسٹر گوہر اور دیگر قائدین نے مختلف شہروں میں احتجاج کیا۔ عوام نے قانون اور آئین کے تحفظ کے لیے بھرپور حصہ لیا اور بانی پی ٹی آئی پاکستان کی خاطر جیل میں ہیں، یہ کوئی ذاتی معاملہ نہیں بلکہ قوم کے لیے قربانی ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما رانا شہریار احمد نے کہا کہ بسنت نے پوری قوم کو یکجا کردیا اور پنجاب میں خوشگوار ماحول اور یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ ہوا۔ انہوں نے عوامی شمولیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کلچر کو اجاگر کرنے میں عوام نے بھرپور حصہ لیا اور پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال مسترد کی۔ رانا شہریار نے کہا کہ عوام نواز شریف اور شہباز شریف کے نظریے کے ساتھ کھڑی ہے، اور عوام کے لیے کام کرنا اولین ترجیح ہے۔
رانا شہریار نے اقتصادی اور سماجی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 2017 میں پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس کون لے کر گیا اور 2020 میں دوبارہ آئی ایم ایف پروگرام کون لایا۔ انہوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن میں ارب ڈالر عوام میں تقسیم کرنے اور صاف ستھرا پنجاب جیسے عملی اقدامات کی تعریف کی، اور کہا کہ تنقید کرنے والے خیبر پختونخوا میں 13 سالہ حکومت کی کارکردگی کا حساب نہیں دیتے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ الیکشن میں سب جماعتیں حصہ لیں گی اور فیصلہ عوام خود کریں گے۔
مزید پڑھیں :میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلباء کے لیے امتحان میں میں شمولیت کے حوالے سے نئی ہدایات آگئیں ،جا نئے کیا















