اہم خبریں

اسلام آباد میں سرچ، کومبنگ اور ہارڈ ٹارگٹ سیکیورٹی آپریشنز جاری

اسلام آباد (اے بی این نیوز) وفاقی وزیرطارق فضل چودھری نے کہاس ہے کہ حملہ آور نے موقع پر موجود چوکیداروں پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے بعد حملہ آور مین ہال میں داخل ہو گیا۔ حملہ آور نے نماز کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
دھماکے کے نتیجے میں متعدد نمازی موقع پر شہید ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو منتقل کیا۔ زخمیوں اور شہداکی میتیں ہسپتالوں میں منتقل کی گئیں۔
اسلام آباد کے پمز اور پولی کلینک ہسپتال میں زیادہ تعداد لائی گئی۔ کئی زخمیوں کو نجی ہسپتالوں میں بھی منتقل کیا گیا۔ تمام زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ شہدا اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے پر فوری ایمرجنسی نافذ کی گئی۔
زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ 2سے 3 گھنٹوں میں خودکش حملہ آور کی شناخت کر لی گئی۔خودکش حملہ آور یاسر ولد اعظم خان، پشاور کا رہائشی نکلا۔ اسلام آباد سے خودکش حملہ آور کے قریبی عزیز گرفتار۔
مارا گیا دہشتگرد ممکنہ خودکش حملہ آور تھا۔ ایک دہشتگرد کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ دہشت گردوں کی تربیت افغانستان میں ہوئی۔دہشتگردوں کے افغانستان آنے جانے اور سہولت کاروں کے شواہد ملے۔
ہینڈلرز اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری۔
اسلام آباد میں سرچ، کومبنگ اور ہارڈ ٹارگٹ سیکیورٹی آپریشنز جاری۔سیکیورٹی اقدامات کے باعث کئی ممکنہ حملے ناکام بنائے گئے۔عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کیلئے پہلے سے ایس او پیز موجود تھے۔واقعے کے وقت 2 مسلح گارڈز تعینات تھے۔

مزید پڑھیں :پی ٹی آئی کا کل کا احتجاج،عمران خان نے کیا کہا،جا نئے بیرسٹر گوہر کا انکشاف

متعلقہ خبریں