اہم خبریں

سونے اور چاندی بارے بابا ونگا کی پیشین گوئی ،جو حقیقت ثابت ہو رہی ہے،جا نئے تفصیلات

بلغاریہ( اے بی این نیوز     ) معروف پیشگو بابا وانگا ایک بار پھر عالمی خبروں اور سوشل میڈیا بحث کا مرکز بن گئی ہیں۔ سونے، چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں سے متعلق ان کی پرانی پیشگوئیاں موجودہ معاشی حالات سے جڑتی دکھائی دے رہی ہیں، جس کے بعد عوام اور سرمایہ کاروں میں بے چینی اور تجسس بڑھ گیا ہے۔

بابا وانگا نے برسوں پہلے کہا تھا کہ دنیا ایک بڑے مالی بحران کی طرف بڑھے گی، جہاں کاغذی کرنسی اپنی اہمیت کھو دے گی اور لوگ اپنی دولت کو محفوظ رکھنے کے لیے سونا، چاندی اور تانبا جیسے اثاثوں کا رخ کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری کا رجحان غیر معمولی حد تک بڑھا۔

ان پیشگوئیوں کے سامنے آنے کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنی جمع پونجی سونے اور چاندی میں منتقل کرنا شروع کر دی۔ مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں سونے کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں بعض مواقع پر ایم سی ایکس پر سونا فی 10 گرام ایک لاکھ 80 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جب کہ ایک سال کے دوران اس کی قیمت میں تقریباً 70 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

چاندی نے تو سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا۔ ایک سال میں چاندی کی قیمت میں 160 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ سطح عبور کرتے ہوئے فی کلوگرام 4 لاکھ روپے کے قریب پہنچ گئی۔ اسی وجہ سے چاندی کو اس وقت سب سے مضبوط سرمایہ کاری آپشنز میں شمار کیا جا رہا ہے۔

تاہم 30 جنوری کے بعد صورتحال میں اچانک تبدیلی دیکھنے میں آئی، جب سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک ہی دن کے اندر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ گراوٹ مسلسل کئی دن تک جاری رہی، جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی۔

قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ایک معمول کی بات ہے، جو عالمی معاشی حالات، ڈالر کی قدر اور سرمایہ کاری کے رجحانات سے جڑی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قلیل مدت میں گراوٹ کے باوجود سونا اور چاندی اب بھی طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے اہم اور نسبتاً محفوظ سمجھے جا رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مستقبل کے معاشی حالات پر سوالیہ نشان موجود ہو۔

مزید پڑھیں :قطر کا پاکستانیوں کیلئے10سالہ ویزہ پروگرام کا آغاز

متعلقہ خبریں