اسلام آباد ( اے بی این نیوز )اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ہونے والے دھماکے کے بعد پمز ہسپتال میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، جہاں لمحوں میں ہسپتال کا نظام مکمل ہائی الرٹ پر چلا گیا۔ پمز کے ترجمان کے مطابق دوپہر 1:50 بجے واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈاکٹروں، نرسنگ اسٹاف اور دیگر متعلقہ شعبوں کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا تاکہ زخمیوں کو بروقت اور مؤثر طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
ترجمان نے تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کے بعد مجموعی طور پر 149 افراد کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا، جن میں 28 افراد جاں بحق جبکہ 121 زخمی شامل تھے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں کئی افراد کی حالت تشویشناک تھی، تاہم بروقت طبی کارروائی اور فوری فیصلوں کے باعث قیمتی جانیں بچانے میں کامیابی حاصل کی گئی۔
پمز ترجمان کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی جان بچانے کے لیے اب تک 20 بڑے آپریشنز کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ 4 سے 6 پیچیدہ نوعیت کے آپریشنز متبادل آپریشن تھیٹرز میں جاری ہیں۔ اس مقصد کے لیے سرجیکل آئی سی یو اور ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل طور پر فعال کر دیا گیا تاکہ شدید زخمی مریضوں کو مسلسل نگرانی اور جدید طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ترجمان کے مطابق زخمیوں کی فوری ضرورت کو دیکھتے ہوئے اب تک 60 یونٹ سے زائد خون فراہم کیا جا چکا ہے، جبکہ فارماسسٹس کی جانب سے ادویات اور جراحی کے سامان کی بلا تاخیر فراہمی یقینی بنائی گئی۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی مرحلے پر ادویات یا سامان کی کمی آڑے نہیں آنے دی گئی۔
پمز انتظامیہ نے بتایا کہ سرجنز، اینستھیزیا ماہرین اور نرسنگ اسٹاف اپنی ڈیوٹیاں ختم ہونے کے باوجود ہسپتال میں موجود رہے اور مسلسل خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اسی طرح ینگ ڈاکٹرز، انٹرنز اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے بھی زخمیوں کی جان بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ہر سطح پر مربوط ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا گیا۔
ترجمان پمز کے مطابق ہسپتال لائے گئے تمام 121 زخمی اس وقت محفوظ ہیں اور کسی مزید جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ ہاؤس کیپنگ، سکیورٹی، کچن اور اسٹورز کے عملے نے بھی غیرمعمولی کردار ادا کیا اور زخمیوں و تیمارداروں کی سہولت کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔
پمز ترجمان کا کہنا ہے کہ پوری ٹیم نے یکجہتی اور پیشہ ورانہ جذبے کے ساتھ اس مشکل صورتحال کا مقابلہ کیا، جبکہ امدادی اور طبی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں تاکہ تمام زخمیوں کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
مزید پڑھیں :سانحہ اسلام آباد،اپ ڈیٹ آگئی،خواجہ آ صف نے اہم انکشاف کر دیا،وہ کون تھا،کہاں سے آیا تھا،سب بتا دیا















