لاہو( اے بی این نیوز ) آج صبح ہی سے لاہور میں آسمان پر رنگین پتنگوں نے رنگ جمانا شروع کر دیا،ہر جانب میوزک،بو کاٹا، پیچے کے نعرے،بسنت کی آمد کے ساتھ ہی لاہور کی مارکیٹس میں پتنگ بازی کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں،لاہور میں بسنت کی آمد کے ساتھ ہی پتنگ بازی سے وابستہ کاروبار ایک بار پھر پوری طرح متحرک ہو گیا ہے اور شہر کی مختلف مارکیٹس میں خریداری کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کائٹ فلائنگ سے جڑے تاجر اور خریدار دونوں ہی بسنت کی تیاریوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث صرف چار دن کے مختصر عرصے میں پتنگ اور ڈور کی فروخت کا حجم ریکارڈ سطح تک جا پہنچا ہے۔
کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے مطابق بسنت سے قبل گزشتہ چار روز کے دوران لاہور کی مارکیٹس میں ایک ارب 22 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی پتنگیں اور ڈور فروخت ہو چکی ہیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چوتھے روز بھی مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں عروج پر رہیں اور خریداروں کی تعداد میں کسی قسم کی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک لاہور بھر میں 10 لاکھ سے زائد گڈے پتنگیں فروخت ہو چکی ہیں، جبکہ صرف چوتھے روز 20 ہزار سے زائد پنے ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئے۔ تاجروں کے مطابق بسنت قریب آتے ہی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے بعض اقسام کی پتنگوں اور ڈور کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے، تاہم اس کے باوجود مارکیٹ میں اشیاء کی دستیابی برقرار ہے۔
کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق اس وقت ڈیڑھ تاوا گڈا تقریباً 700 روپے، ایک تاوا گڈا 400 روپے جبکہ پونا تاوا گڈا 300 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح دو پیس کا پنا 12 سے 15 ہزار روپے کے درمیان دستیاب ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود خریداروں کی دلچسپی کم نہیں ہوئی اور لوگ بڑی تعداد میں پتنگ بازی کے سامان کی خریداری کر رہے ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق بسنت کے دوران توقع ہے کہ فروخت کا یہ حجم مزید بڑھے گا، جس سے پتنگ اور ڈور سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار براہ راست متاثر طور پر مستحکم ہو گا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حفاظتی اقدامات اور حکومتی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے تاکہ خوشی کا یہ تہوار کسی ناخوشگوار واقعے کا سبب نہ بنے۔
مزید پڑھیں :سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھائو برقرار















