اہم خبریں

بسنت،حادثات سے بچنے کیلئے ہر پتنگ پر کیو آر کوڈ لازمی قرار دیا جا ئے

اسلام آباد( اے بی این نیوز) غیر قانونی دھاتی ڈور اور پتنگ بازی سے نقصانات، پتنگوں پر کیو آر کوڈ درج کرنے سے کسی بھی صورت میں اس دکاندار کو گرفت کرنے میں آسانی ہو گی،حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس بات کو لازمی قرار دے کہ کیو آر کو ڈ کے بغیر کو ئی بھی پتنگ فروخت نہیں ہو گی۔ یہ اقدام اٹھا نے حادثات میں وا ضح کمی آسکتی ہے۔غیر قانونی دھاتی ڈور اور بے قابو پتنگ بازی کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع، شدید زخمی ہونے کے واقعات اور املاک کو نقصان پہنچنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کے مؤثر حل کے لیے پتنگوں پر کیو آر کوڈ درج کرنے کا نظام متعارف کرایا جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ دھاتی اور کیمیکل لگی ڈور موٹر سائیکل سواروں اور راہگیروں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے،

جبکہ بجلی کی تاروں اور دیگر انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ہر سال پتنگ بازی کے موسم میں درجنوں افراد حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں، مگر ذمہ دار عناصر تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔تجویز کے مطابق اگر ہر پتنگ اور ڈور پر کیو آر کوڈ درج کیا جائے تو اس کے ذریعے بنانے والے اور فروخت کرنے والے کی شناخت ممکن ہو سکے گی، جس سے غیر قانونی اور خطرناک مواد کے استعمال کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ اس نظام کے تحت خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے گی۔
جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ غیر قانونی دھاتی ڈور کے کاروبار پر بھی مؤثر قابو پایا جا سکے گا۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے جلد قانون سازی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

حکومت پنجاب نے 25 سال کے بعدسخت شرائط کے ساتھ بسنت فیسٹیول منانے کی اجازت دی ہے اور ساتھ ہی بسنت منانے کے لیے حفاظتی انتظامات بھی جاری کر دیئے ہیں‌ شائقین کو ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے کی ہدایات کو یقینی بنانا ہو گا. ہر سال کی بسنت فیسٹیول پر قیمتی جانیں‌چلی جاتی ہیں‌ اورمختلف حادثات بھی پیش کرتے ہیں‌ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سال 2026 میں حکومت پنجاب کی جانب سے باضابطہ بسنت فیسٹیول منانے کی مشروط اجازت دی گئی ہے جس میں عوامی جانوں کے لیے حفاظتی انتظامات بھی کیے گئے ہیں‌.بہر حال بسنت فیسٹیول پر پتنگ فروشوں کے لیے بھی سخت اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لیے پتنگوں اور ڈورز پر کیو آر کورڈ لازمی ہونا چاہیے تاکہ کسی قسم کا کوئی حادثہ پیش آنے کی صورت میں پتنگ فروشوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں‌لائی جا سکے ۔

کیو آر کوڈ کے ذریعے پتنگ بنانے والے دکان دار اور استعمال کرنے والے کی شناخت ممکن ہو سکے گی غیر قانونی ڈور اور خطرناک سامان استعمال کرنے والوں تک آسانی سے پہنچا جا سکے گا یہ قدم نہ صرف عوام کی جانوں کے تحفظ میں مدد دے گا بلکہ بسنت کو ایک محفوظ تہوار بنانے کی طرف اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے خوشی تب ہی مکمل ہوتی ہے جب وہ سب کے لیے محفوظ ہو بسنت منائیں مگر ذمہ داری کے ساتھ

مزید پڑھیں  :پی ٹی آئی کیلئے اچھی خبر آگئی

متعلقہ خبریں