پشاور(اے بی این نیوز)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے آبائی ضلع خیبر میں قبائلی مسائل کے حل کے لیے سیاسی حریف وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھنے کا اعلان کیا ہے، وہیں قبائل کو لے کر اسلام آباد مارچ کا بھی عندیہ دیا ہے۔
قبائلی جرگے سے اپنے جذباتی خطاب میں سہیل آفریدی نے وفاق کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ قبائل کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے، اسی جرگے میں وزیراعظم سے ملاقات کے اعلان کے مطابق گزشتہ روز یعنی پیر کو اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات بھی کی۔
’اسلام آباد مارچ کے لیے قبائل کا دورہ کروں گا‘
سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی مسائل اور تیراہ آپریشن پر قبائلی اقوام کے شدید تحفظات ہیں، اور اسی پر تمام قبائلی علاقوں میں جا کر جرگے کیے جائیں گے تاکہ اسلام آباد مارچ کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔
’آپ کے حقوق کے لیے میں آپ سب کو لے کر اسلام آباد جانے کے لیے لائحہ عمل بناؤں گا۔‘
سہیل آفریدی چاہتے کیا ہیں؟
تجزیہ کاروں اور سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافیوں کے مطابق سہیل آفریدی سیاسی کھیل کے ذریعے وفاق اور مقتدر حلقوں پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں، ان کے مطابق اس وقت پی ٹی آئی کی سیاست شدید کنفیوژن کا شکار ہے اور سہیل آفریدی ایک نہیں بلکہ کئی محاذوں پر الجھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں۔















