اسلام آباد (اے بی این نیوز) خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور سہیل آفریدی کی ملاقات نہایت اہم تھی، جس میں این ایچ پی اور این ایف سی کیسز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران 4,758 ارب روپے سے متعلق معاملات زیرِ بحث آئے جبکہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسائل پر بھی گفتگو کی گئی۔
اے بی این نیوز کے پروگرام ’’تجزیہ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات منصب کے تقاضوں کے تحت ہوئی، جس میں خیبر پختونخوا کے مسائل اور صوبے کے شیئر پر بات چیت کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام مسائل کھلے انداز میں وزیراعظم کے سامنے رکھے گئے۔
شفیع جان نے کہا کہ گزشتہ روز متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا گیا جہاں عوام نے جبری نقل مکانی کی گواہی دی۔ متاثرین نے بتایا کہ آپریشنز کے باعث انہیں اپنے گھر چھوڑنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین سال سے جاری آپریشن کے باوجود مسائل کا حل نہ ہونا پالیسی کی ناکامی ہے، اور اگر بیس سال میں نتائج حاصل نہ ہوں تو پالیسی پر نظرِ ثانی ضروری ہو جاتی ہے۔ اجتماع میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مسائل کھل کر سامنے آئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعید آفریدی کی تقریر میں قبائلی عمائدین اور قیادت کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔ آئندہ دنوں میں جنوبی وزیرستان، کرم اور باجوڑ کا دورہ کیا جائے گا جہاں متاثرین سے براہِ راست بات چیت اور مشاورت کی جائے گی۔ شفیع جان کے مطابق متاثرین اور قومی سطح پر خیبر پختونخوا کے لیے کنونشن بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں آئندہ لائحہ عمل طے کر کے اسلام آباد جانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
لاہور سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ شہر میں عمران خان کی تصویر والی بسنت منعقد کی جائے گی، جس میں 804 اور عمران خان کی تصویر شامل ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ فیسٹیول منانے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ لاہور میں ترقیاتی کام بھی دکھائے جائیں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر علاقوں میں صحت مراکز، پانی اور سڑکوں کے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:المناک ٹریفک حادثہ ، جانی نقصان کی اطلاعات















