اسلام آباد(نامہ نگار)اسلامی نظریاتی کونسل کا 244 واں اجلاس آج چیئرمین علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کونسل نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ ہندوستان اور فتنۃ الخوارج کی جانب سے ہونے والے دہشت گردانہ واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔
اجلاس کے آغاز میں دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں اور حال ہی میں وفات پانے والے سابق اراکین کونسل مولانا فضل الرحیم اور محمد جلال الدین ایڈووکیٹ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
اجلاس میں قانونِ انفساخِ نکاح مسلمانان 1939ء کے تحت فسخِ نکاح کے اسباب کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کونسل نے خصوصی پارلیمانی سب کمیٹی برائے جنسی شمولیت کی تجاویز سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر خاوند مفقود الخبر ہو اور بیوی کو عفت و عصمت کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ دو سال انتظار کے بعد عدالت سے فسخِ نکاح کے لیے رجوع کر سکتی ہے۔ اسی طرح نفقہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں ایک سال بعد، خاوند کے قید ہونے کی صورت میں تین سال بعد فسخِ نکاح کی اجازت ہوگی۔ نامردی، فرائضِ زوجیت کی ادائیگی پر قدرت نہ ہونا، ذہنی امراض یا دیگر مہلک بیماریوں کی صورت میں بھی ایک سال کے انتظار کے بعد فسخِ نکاح ممکن ہوگا۔ بچپن میں طے پانے والے نکاح میں اگر سوء اختیار ثابت ہو جائے تو بھی فسخِ نکاح کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
کونسل نے رحم کی پیوندکاری کے حوالے سے استفسار پر فیصلہ دیا کہ ایسی خاتون جو تولیدی عمر گزار چکی ہو، چند شرائط کے ساتھ اس کے رحم کو بطور پیوندکاری منتقل کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ نیو ڈورا پروڈکٹ (Dural Repair Patch) کے استعمال کو شرعی طور پر درست قرار نہیں دیا گیا۔
مقدس اوراق کی ری سائیکلنگ سے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے کونسل نے ہدایت کی کہ احتیاط کا تقاضا ہے کہ قرآنی اور دیگر مقدس اوراق کو عام کاغذات سے الگ ری سائیکلنگ کے مراحل سے گزارا جائے۔
وزارتِ قانون و انصاف کے استفسار پر اسلامی نظریاتی کونسل نے واضح کیا کہ غیرت کے نام پر قتل خلافِ اسلام ہے اور کسی بھی شخص کو کسی بھی حالت میں قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔
اجلاس میں صاحبزادہ حسان حسیب الرحمٰن، طاہر محمود اشرفی، رانا شفیق پسروری، ڈاکٹر عزیر محمود الازہری، مفتی محمد زبیر، سید سعید الحسن، پیر شمس الرحمٰن مشہدی، بیرسٹر عتیق الرحمٰن بخاری، حافظ محمد امجد، علامہ یوسف اعوان سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔
دہشتگرد حملوں کے بعد کوئٹہ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، ریڈ زون سیل















