مستونگ (اے بی این نیوز) گوادر میں بلوچ مزدور خاندانوں پر فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی جانب سے کی جانے والی بربریت کے بعد سیکیورٹی فورسز کا بھرپور آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق صبح سے جاری آپریشن میں 67 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل گزشتہ دو دنوں کے دوران پنجگور اور شعبان کے علاقوں میں 41 دہشت گرد مارے گئے تھے، جس کے بعد بلوچستان میں مختلف کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی کل تعداد 108 ہو چکی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران 10 بہادر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے جوان شہادت کا رتبہ پا چکے ہیں، جن کی قربانیوں کو قوم خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
ادھر سفاک ہندوستانی پراکسی دہشت گردوں نے گوادر میں 11 معصوم اور غریب بلوچ شہریوں کو شہید کر دیا، جن میں 5 مرد، 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔ شہید ہونے والے تمام افراد کا تعلق بلوچستان سے تھا جو محنت مزدوری کی غرض سے گوادر آئے تھے۔ اس سے قبل شہدا کی تعداد 5 بتائی گئی تھی، جس میں بعد ازاں اضافہ ہوا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس گھناؤنے واقعے میں ملوث تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے جبکہ گرد و نواح کے علاقوں میں دہشت گرد عناصر کے ممکنہ ٹھکانوں کے خلاف مزید تعاقبی آپریشنز جاری ہیں، جن میں مزید ہلاکتوں اور نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
دہشت گردی کے اس اندوہناک واقعے کے خلاف گوادر کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ غریب مزدوروں پر حملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فتنہ الہندوستان بھارتی ایماء پر بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں:وزیراعلی سندھ سے استعفے کا مطالبہ سامنے آگیا















