اہم خبریں

عوامی سروے: بنگلہ دیش کے اگلے وزیراعظم کیلئے اکثریت نے کس کا نام لیا؟

ڈھاکہ (اے بی این نیوز)بنگلہ دیش کے تقریباً نصف ووٹرز سمجھتے ہیں کہ مرحومہ خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان مستقبل میں ملک کے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

یہ نتائج نجی کنسلٹنگ فرم ’انوویشن کنسلٹنگ‘ کے تیسرے راؤنڈ کے پیپلز الیکشن پلس سروے میں سامنے آئے ہیں۔ سروے کے مطابق 47.6 فیصد شرکا نے طارق رحمان کو مستقبل کے وزیرِ اعظم کے طور پر منتخب ہونے کے امکانات زیادہ قرار دیا جو عام انتخابات کے قریب آتے ہوئے بی این پی کی حمایت میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

سروے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی وابستگیاں تبدیل ہو رہی ہیں اور وہ ووٹرز جو پہلے جماعت اسلامی یا نیشنل سٹیزن پارٹی کی حمایت کرتے تھے اب بی این پی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر عوامی لیگ کے سابقہ حمایتیوں میں سے بھی کئی بی این پی کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سروے میں بتایا گیا کہ 22.5 فیصد شرکا نے جماعت اسلامی کے چیئرمین شفیق الرحمان کو وزیر اعظم کے طور پر جبکہ 2.7 فیصد نے ناہید اسلام کا نام لیا۔

تقریباً 22.2 فیصد ووٹرز ابھی فیصلہ نہیں کر سکے۔سروے 16 تا 27 جنوری کے دوران ملک کے 64 اضلاع کے شہری اور دیہی علاقوں میں 5,147 انٹرویوز کے ذریعے کیا گیا، شرکا سے ووٹر ٹرن آؤٹ، ریفرنڈم سے آگاہی، قانون و انتظام، انتخابات کی غیرجانبداری، ووٹنگ کے ارادے اور پارٹی کی ترجیحات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

اگر فوری انتخابات کرائے جائیں تو 52.9 فیصد شرکا نے کہا کہ ان کے علاقوں میں بی این پی کے امیدوار جیتیں گے جو پچھلے سروے کے مقابلے میں 7.5 فیصد کا اضافہ ہے۔ جماعت اسلامی کی حمایت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ سابقہ عوامی لیگ ووٹرز میں سے 32.9 فیصد اب BNP کی حمایت کر سکتے ہیں، جبکہ 13.2 فیصد جماعت اسلامی کی حمایت کر سکتے ہیں۔ تقریباً 41 فیصد ووٹرز ابھی فیصلہ نہیں کر سکے۔

سروے نے آئندہ آئینی اصلاحات کے ریفرنڈم کو بھی کور کیا، جو عام انتخابات کے ساتھ شیڈول ہے، تقریباً 60 فیصد شرکاء نے ریفرنڈم میں “ہاں” ووٹ دینے کا کہا، جبکہ 22 فیصد اس سے لاعلم تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج BNP کے لیے بڑھتی حمایت اور سیاسی عدم استحکام کے درمیان ملک میں سیاسی لچک اور طاقت کے نئے توازن کی عکاسی کرتے ہیں، جو بنگلہ دیش کے تیرہویں پارلیمانی انتخابات کے قریب اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت میں نیپا وائرس: پاکستانی سرحدوں کی نگرانی سخت، ایئرپورٹ پر ایمرجنسی نافذ

متعلقہ خبریں