اسلام آباد( اے بی این نیوز) رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے 8 فروری فیصلہ کن دن بن گیا ہے۔ ان کے مطابق اس احتجاج کے نتائج چاہے کامیاب ہوں یا ناکام، دونوں صورتوں میں سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوںنے نشاندہی کی کہ اگر احتجاج ناکام رہا تو حکومت مذاکرات سے مزید دور ہو جائے گی، لیکن زمینی حقائق پی ٹی آئی کی احتجاجی طاقت پر سوالیہ نشان بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے شہروں میں تاحال منظم موبلائزیشن نظر نہیں آ رہی، اور حکومت کو اس وقت احتجاج سے کوئی بڑا خدشہ لاحق نہیں ہے۔
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ سٹریٹ موومنٹ پی ٹی آئی کی سب سے کمزور کڑی ثابت ہو رہی ہے اور بانی پی ٹی آئی کی صحت کا معاملہ اگرچہ جذباتی دباؤ بڑھا رہا ہے، مگر اس سے کافی اثر نہیں پڑ رہا۔
شیرافضل مروت کا کہنا تھا کہ 8 فروری کے بعد تحریک کی سمت واضح ہو جائے گی اور پارٹی کو اپنے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔ وہ اے بی این نیوز کے پروگرام ’’ڈیبیٹ@8‘‘ میں گفتگو کر رہے تھے۔















