اسلام آباد( اے بی این نیوز) شوکت خاتم ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عاصم یوسف اور عمران خان کے دیرینہ ذاتی معالج کا عمران خان کی صحت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ
دنیا بھر میں افواہیں پھیلی ہوئی ہیں کہ عمران خان کی صحت خراب ہے گزشتہ دنوں حکومت نے کنفرم کیا ہے کہ ان کی آنکھ میں تکلیف ہے ۔عمران خان کو اسلام آباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں لے جا کر ان کا علاج کیا گیا ہے ابھی تک بدقسمتی سے ہمیں زیادہ معلومات نہیں ہو سکیں کہ ان کی آنکھ میں کیا تکلیف ہوئی ہے کیا ٹیسٹ ہوئے ہیں نہ پتا ہے کہ کیا ادویات دی گئی یہ ایک ایسی تکلیف ہے جس کا علاج ہر ڈاکٹر نہیں کر سکتا جس کے لیے ماہر ڈاکٹر کا ہونا ضروری ہے ،ریٹینا کی بیماری پر جس نے سپیشلائیزیشن ہو وہ اس کا علاج کر سکتا ہے اس بیماری کے پیچھے اور بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں جس میں شوگر ، کیسٹرول یا خون کے جمنے کی قوت زیادہ ہو جاتی ہے جس سے شریانیں بلاک ہو جاتی ہیں ان بیماریوں کے ٹیسٹ ہونا بھی ضروری ہیں ۔
میں کہوں گا کہ صرف ریٹینا سپیشلٹ ہی نہیں جنرل فزیشن کی خدمات لی جائیں میں اور ڈاکٹر سلطان گزشتہ تیس سال سے عمران خان کے ڈاکٹر رہے ہیں ہمیں سلمان اکرم راجہ کی کال آئی کہ شائد عمران خان سے ملاقات کی اجازت مل جائے میں نے لاہور کے مشہور ڈاکٹر خرم کو درخواست کی کہ وہ ملے ساتھ چلیں وہ آدھے گھنٹے کے نوٹس پر میرے سات بیٹھے اڈیالہ جیل گئے رات گیارہ بجے پہنچے لیکن ملاقات کی اجازت نہیں ملی ، ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ہم واپس آگئے اس امید پر صبح اجازت مل جائے لیکن نہیں ملی ہم کوشش کر رہے ہیں جیسے ہی اجازت ملی تو ہم آجائیں گے میں ایک دو اہم باتیں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ شاید قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہ کوئی ناروا سلوک کیا لیکن ایسا نہیں ہوا یہ ساری چیزیں غلط ہیں ہمیں کسی نے تنگ نہیں کیا نابارہ گھنٹے کھڑے رہے صرف دیڑھ گھنٹے کے قریب کھڑے رہے پھر نکل گئے ۔
ہم نے یہ نہیں کہا کہ عمران خان کو طویل مدت کے لیے ہسپتال داخل کیا جائے یہ کہا کہ یہ ایسی بیماری ہے جس کا ایک دفعہ سے زیادہ علاج ضروری ہے اس کی ٹریٹمنٹ ہسپتال میں ہی ممکن ہے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر خرم میرے ساتھ تھے میں نے عمران خان کی لیگل ٹیم کو دو اور ایسے ڈاکٹر کے نام دیئےہیں جو ریٹینا سپلیشٹ ہیں ڈاکٹر خرم نہ مل سکے تو دیگر دو ڈاکٹروں کی خدمات لی جاسکتیں ہیں میں اپیل کروں گا کہ ہمیں عمران خان کی صحت بارے کھل کر بتایا جائے اور ان کے کیا ٹیسٹ کیے ہیں اور آئندہ علاج کے لیے کیا منصوبہ بندی ہے ریٹینا کا علاج بہت ضروری ہے ہر پاکستانی کو حق ہے کہ عمران خان سے مل سکے اور ان کو اعلیٰ علاج میسر ہوں ہمیں بھی اجازت دی جائے کہ عمران خان کے علاج اور دیکھ بھال میں ہم شامل ہوسکیں اور مدد کر سکیں ۔
مزید پڑھیں :عمران خان کے وکیل کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط منظر عام پر آگیا،جا نئے کیا لکھا















