اسلام آباد ( اے بی این نیوز )وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتی شعبے کو ریلیف دیتے ہوئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کر دیا، جسے کاروباری برادری کی جانب سے خوش آئند قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صنعتیں مہنگی بجلی کے باعث شدید دباؤ کا شکار تھیں اور پیداواری لاگت میں اضافے سے برآمدات بھی متاثر ہو رہی تھیں۔وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دل تو یہ چاہتا ہے کہ بجلی کی قیمت میں 10 روپے فی یونٹ کمی کر دی جائے، مگر موجودہ حالات میں کچھ مجبوریوں کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست سب کا حق ہے، لیکن جب تک پاکستان کی عزت اور وقار مضبوط نہیں ہوگا، سیاست بھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے واضح پیغام دیا کہ قومی مفاد ہر چیز سے بالاتر ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ واقعات کے بعد پاکستان کا دنیا بھر میں ایک الگ مقام بن چکا ہے اور عالمی سطح پر ملک کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں عام تھیں، حتیٰ کہ بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ پاکستان تکنیکی طور پر ڈیفالٹ کر چکا ہے، لیکن آج حالات بدل چکے ہیں۔انہوں نے دوست ممالک چین، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، جس کی بدولت معیشت کو سہارا ملا اور اعتماد بحال ہوا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی کے نرخوں میں کمی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صنعت کیلئے بجلی کے بلوں میں 4.4 روپے فی یونٹ کمی کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے ابتدائی دنوں میں یہ بوجھ 8.90 روپے فی یونٹ تک پہنچ چکا تھا، جسے اب کم کر دیا گیا ہے۔اویس لغاری نے مزید بتایا کہ ویلنگ چارجز میں بھی کراس سبسڈی کے تحت اوسطاً 4.4 روپے فی یونٹ کمی کی جائے گی، جس سے صنعتی صارفین کو مزید ریلیف ملے گا۔ اس فیصلے کے بعد صنعتوں کو بجلی تقریباً ساڑھے گیارہ سینٹ فی یونٹ میں دستیاب ہوگی، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ مسابقتی ریٹ ہے۔
مزید پڑٖھیں :آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپس کی آئیکونک پرفارمنس کی فہرست جاری کر دی















