بنگلہ دیش(اے بی این نیوز) بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے 12 فروری کو ہونے والے ریفرنڈم اور 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے پیشِ نظر مسلح افواج کو اعلیٰ ترین سطح پر الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ آرمی ہیڈکوارٹرز میں اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات کے دوران چیف ایڈوائزر نے آئندہ انتخابی مرحلے کو ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے نہایت فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے شفاف، آزاد اور پُرامن انتخابی ماحول کی فراہمی پر زور دیا۔
پروفیسر محمد یونس کا کہنا تھا کہ عوامی اعتماد کے تحفظ اور جمہوری عمل کی ساکھ برقرار رکھنے میں مسلح افواج کا کردار انتہائی اہم ہے، جس کے لیے ادارہ جاتی نظم و ضبط اور آئینی حدود کی مکمل پاسداری ناگزیر ہے۔ انہوں نے افواج کو ہدایت کی کہ وہ مکمل غیر جانبداری، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے الیکشن کمیشن اور سول انتظامیہ کو ہر ممکن معاونت فراہم کریں۔
چیف ایڈوائزر کے مطابق ریفرنڈم کے ذریعے عوام کو ریاست کے مستقبل سے متعلق اپنی رائے دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا، جبکہ قومی انتخابات کے ذریعے عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے، اس لیے انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا بدنظمی عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی عمل کو شفاف، منصفانہ اور پُرامن بنانے کے لیے ہم آہنگی کے ساتھ فرائض انجام دیں تاکہ ملک جمہوری استحکام کی جانب آگے بڑھ سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی کشیدگی اور ماضی کے انتخابی تنازعات کے پس منظر میں حکومت کی جانب سے یہ ہدایات غیر معمولی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہیں۔ یہ بھی پڑھیں :پاکستان اور میانمار کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
مزید پڑھیں۔ایم کیو ایم پاکستان کے اہم وزرا اور اراکین اسمبلی کی سکیورٹی واپس لے لی گئی















