اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا ہے کہ متعدد سیاسی جماعتیں احتجاجی اتحاد کا حصہ ہیں اور پی ٹی آئی اپنے احتجاج کو مکمل طور پر آئینی دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی دیگر جماعتوں کو بھی اپنے آئینی مؤقف کے تحت احتجاج میں شرکت کی دعوت دے رہی ہے اور تمام اقدامات آئینِ پاکستان کے مطابق ہوں گے۔
اے بی این کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ 8 فروری ایک عام دن نہیں بلکہ ایک علامتی اور اہم دن ہے۔ اپوزیشن کا متفقہ مؤقف ہے کہ گزشتہ انتخابات آزاد اور شفاف نہیں تھے اور انتخابات کے بعد ہونے والی تبدیلیوں نے پورے نظام کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف اقتدار کا نہیں بلکہ آئینی ڈھانچے میں بگاڑ پیدا ہو چکا ہے اور اہم قومی فیصلوں میں پارلیمان کا کردار کمزور کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ احتجاج کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو سونپی گئی ہے، جبکہ پارٹی قیادت احتجاج کے معاملے پر محمود اچکزئی کے ساتھ ہم آہنگی رکھے گی۔ بیرسٹر عمیر نیازی کے مطابق جعلی اسمبلی کے دو سال مکمل ہونے پر عوام کو آگاہ کرنا ضروری ہے، اسی لیے 8 فروری کو پورے ملک میں احتجاج کیا جائے گا، تاہم احتجاج کی نوعیت اور شدت ہر صوبے میں مختلف ہو سکتی ہے، اور خیبرپختونخوا میں احتجاج کا انداز دیگر صوبوں سے مختلف ہوگا۔
دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے زیر اہتمام پارلیمان میں گرینڈ جرگہ منعقد کیا گیا، جبکہ گورننس کی کمی کے باعث دہشت گرد عوام میں گھل مل گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں کو گرفتار کرنے کے بجائے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جانا چاہیے اور دہشت گردی کے پیچھے سیاسی اور بیرونی معاونت کی مکمل جانچ ضروری ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چودھری نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کو احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم احتجاج آئینی اور پرامن ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی احتجاجی تاریخ میں بعض اوقات پرتشدد واقعات بھی شامل رہے ہیں، اسی لیے حکومت نے واضح کیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیا جائے۔
طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گورننس بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عموماً ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں جہاں انہیں آسانی سے پناہ مل سکے۔ قبائلی علاقوں میں نقل مکانی کو تاریخ کا حصہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تقریباً 60 فیصد آبادی پہلے ہی نقل مکانی کر چکی ہے۔
لیگی رہنما کے مطابق دہشت گردوں سے تنگ آ کر 24 قبائلی سرداروں نے ریاست سے رابطہ کیا اور دہشت گردی کے خاتمے کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نقل مکانی کے دوران آپریشن نسبتاً آسان ہوتا ہے اور جاری آپریشن مکمل طور پر انٹیلی جنس بیسڈ اور ٹارگٹڈ ہے، جس میں عام آبادی کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جا رہا۔
مزید پڑھیں:سرکاری افسران کی دہری شہریت پر اہم حکومتی فیصلہ















