اہم خبریں

اسپین کی عدالت نے پاکستانی شہری کو 36 سال قید کی سزا سنادی

سپین(اے بی این نیوز)اسپین کی ایک عدالت نے آن لائن محبت کے فراڈ سے جڑے قرض کے تنازع پر 3 بزرگ بہن بھائیوں کے قتل کے مقدمے میں ایک پاکستانی شہری کو 36 سال قید کی سزا سنا دی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق پاکستانی نژاد ملزم دلاور حسین کو دسمبر 2023 میں میڈرڈ کے قریب موراتا دے تاخونا میں 2 بزرگ بہنوں اور ان کے معذور بھائی کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔

اکتوبر میں جیوری نے ملزم کو قتل کا مرتکب ٹھہرایا تھا، جس کے بعد میڈرڈ کی عدالت نے ہر قتل پر 12، 12 سال قید کی سزا سناتے ہوئے مجموعی طور پر 36 سال قید کا حکم دیا۔ عدالت نے فیصلے میں نفسیاتی حالت میں بگاڑ کو ایک ہلکا عامل قرار دیا۔

44 سالہ دلاور حسین نے خود پولیس کے سامنے پیش ہو کر قتل کا اعتراف کیا تھا۔ مقتولین کی جزوی طور پر جلی ہوئی لاشیں ان کے گھر سے برآمد ہوئی تھیں۔ تینوں بہن بھائی کی عمریں 70 کی دہائی میں تھیں اور انہیں مبینہ طور پر لوہے کی سلاخ سے مارا گیا تھا۔

عدالت میں بیان دیتے ہوئے ملزم نے معافی مانگی اور کہا کہ وہ آوازیں سنتا تھا اور اس وقت ذہنی طور پر درست حالت میں نہیں تھا۔ مقامی افراد کے مطابق یہ واقعہ ایک جعلی آن لائن محبت کے فراڈ سے جڑا تھا، جس میں دونوں بہنیں یہ سمجھتی رہیں کہ وہ امریکی فوجی اہلکاروں کے ساتھ طویل فاصلے کے تعلق میں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بہنوں کو بتایا گیا کہ ایک فوجی اہلکار کی موت ہو چکی ہے جبکہ دوسرے کو ایک بڑے یورو وراثتی فنڈ سے رقم حاصل کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے، جس کے باعث وہ بھاری قرض میں ڈوب گئیں۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق دلاور حسین، جو ان کے گھر میں کرائے پر رہتا تھا، نے بہنوں کو تقریباً 60 ہزار یورو قرض دیا جو واپس نہیں کیا گیا۔

اسی تنازع کے باعث فروری 2023 میں ملزم نے ایک بہن پر ہتھوڑے سے حملہ کیا تھا، جس پر اسے 2 سال قید کی سزا سنائی گئی، تاہم پہلی مرتبہ جرم ہونے کے باعث سزا معطل کردی گئی تھی۔

بعد ازاں دسمبر 2023 میں ہونے والے تہرے قتل کے بعد یہ سخت سزا سنائی گئی۔ ملزم نے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر کر دی ہے۔ مزید یہ کہ دلاور حسین کو فروری 2024 میں میڈرڈ کی جیل میں اپنے 39 سالہ بلغارین ہم سیل قیدی کے مبینہ قتل کے الزام میں ایک اور مقدمے کا بھی سامنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سویڈن نے افغان مہاجرین کو ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم جاری کر دیا

متعلقہ خبریں