میرپورخاص(اے بی این نیوز)رمضان سے قبل ڈبل منافع خوری، سستی گندم کے باوجود آٹا عوام سے کوسوں دور، آٹا 130 روپے کلو فروخت ہونے لگا۔
تفصیلات کے مطابق میرپورخاص میں رمضان المبارک سے قبل فلور مل منافع خوروں اور گندم مافیا کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، سبسڈی کے باوجود محکمہ فوڈ کی ملی بھگت سے فی کلو آٹا 130 روپے تک فروخت ہو رہا ہے جبکہ عوام کو سستا آٹا فراہم کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا، محکمہ فوڈ کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جنوری کے مہینے میں میرپور خاص ریجن کی فلور ملوں کو 20 ہزار میٹرک ٹن گندم کا کوٹہ فراہم کیا جا رہا ہے، جس میں سے 14 ہزار میٹرک ٹن فلور ملوں اور چھ ہزار میٹرک ٹن گندم چکی والوں کے لیے رکھا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود خود محکمہ فوڈ کی ملی بھگت سے ہی گندم کا کوٹہ بند اور نان آپریشنل فلور مل و چکی والوں کو دیا جا رہا ہے۔
جو اپنا پورا گندم کا کوٹہ ملی بھگت سے ضلع کے باہر فروخت کر رہے ہیں، جب کہ آپریشنل فلور مل و چکی والے بھی اپنا گندم کا 80 فیصد کوٹہ ضلعے سے باہر مہنگے داموں گندم فروخت کر کے ڈبل منافع حاصل کر رہے ہیں، اور 20 فیصد گندم کا آٹا بنا کر وہ بھی مہنگے داموں 120 روپے کلو فروخت کر رہے ہیں جو مارکیٹ میں 130 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے، ایسی پوزیشن میں مقامی دکاندار ضلعے کے باہر سے آٹا منگوانے پر مجبور ہے۔
عام آدمی سستی گندم ہونے کے باوجود جو کہ 80 روپے کلو ہے اس کو 130 روپے فی کلو آٹا خریدنے پر مجبور ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت و ضلع انتظامیہ جب جاگے گی تب تک گندم مافیا اور فلور مل مافیا اپنی جیبیں بھر پور بھر لیں گی، اور اس کے بعد صرف دکھانے کے لیے رسمی کارروائی اور آٹے میں کمی کا اعلان کیا جائے گا، لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر سستا آٹا فراہم کرے، تاکہ انہیں فوری ریلیف مل سکے۔
مزید پڑھیں۔سولر گرین میٹرز لگانے پر عارضی پابندی عائد















