اسلام آباد ( اے بی این نیوز ) اسلام آباد میں مقامی مال سے ناروے کے تین سالہ بچے کے اغوا کے کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے مرکزی ملزمہ شائستہ کو عمر قید کی سزا سنائی اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔ جبکہ شریک ملزم ہارون خان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر کیس سے بری کر دیا گیا۔
پراسیکیوٹر رانا نوید کے مطابق مدعی مقدمہ ناروے سے پاکستان اپنی فیملی کے ہمراہ آئی تھیں، اور واقعہ کے روز مقامی شاپنگ مال میں موجود تھیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ تین سالہ بچہ ازلان دو خواتین کے ہمراہ مال سے باہر جاتا ہے۔ اسی فوٹیج کی بنیاد پر تفتیش کو آگے بڑھایا گیا، جس کے بعد بچے کو ملزمہ شائستہ مہرابادی کے ہمراہ بازیاب کروا لیا گیا۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والی خاتون کی شناخت نادرا ڈیٹا کے ذریعے ملزمہ شائستہ کے طور پر کی گئی، جو کیس کا ایک مضبوط ثبوت بنا۔ مزید یہ کہ بچے کی بازیابی بھی اسی ملزمہ کے قبضے سے ہوئی، جس سے اغوا کا الزام مزید مضبوط ہو گیا۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مدعی اور ملزمہ کے درمیان ماضی میں کسی قسم کی ذاتی دشمنی یا ان بن ثابت نہیں ہو سکی، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ اغوا کسی ذاتی جھگڑے کا نتیجہ نہیں تھا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزمہ نے مدعی پر جھگڑے کا الزام لگایا، مگر وہ اس دعوے کو ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے اغوا کا کیس ثابت ہوتا ہے اور شواہد اس قدر مضبوط ہیں کہ ملزمہ کو شک کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق بچے کو مال سے باہر لے جانا، پھر اسے اپنے ساتھ رکھنا اور بعد ازاں اسی کے ہمراہ گرفتار ہونا، سب ایک ہی جرم کی کڑیاں ہیں جو ملزمہ کے خلاف جاتی ہیں۔یاد رہے کہ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے مئی 2025 میں تھانہ مارگلہ کی حدود میں واقع ایک مقامی مال سے تین سالہ بچے ازلان کو اغوا کیا تھا، جس پر اغوا کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں :ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ممکنہ کھلاڑیوں کے نام سامنے آ گئے،جا نئے تفصیلات















