لندن ( اے بی این نیوز ) کرکٹ کی دنیا ایک عظیم نام سے محروم ہو گئی ہے، انگلینڈ کے معروف بائیں ہاتھ کے اسپنر نارمن گفورڈ طویل علالت کے بعد 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔نارمن گفورڈ کو انگلش کاؤنٹی کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین اور بااثر کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ورسسٹرشائر اور واروکشائر دونوں کی نمائندگی کی اور اپنی شاندار اسپن بولنگ سے دہائیوں تک بیٹنگ لائن اپس کو مشکلات میں ڈالے رکھا۔ وہ ورسسٹرشائر کی 1964 اور 1965 کی کاؤنٹی چیمپئن شپ جیتنے والی ٹیموں کا اہم حصہ تھے۔ بعد ازاں 1974 میں بطور کپتان انہوں نے ورسسٹرشائر کو ایک اور کاؤنٹی چیمپئن شپ ٹائٹل دلوایا، جبکہ 1971 میں کلب کو اس کا پہلا سنڈے لیگ اعزاز بھی دلایا۔
نارمن گفورڈ نے 1960 سے 1982 تک 22 برس ورسسٹرشائر کی نمائندگی کی۔ اس طویل اور یادگار کیریئر کے دوران انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 1,615 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کی مستقل مزاجی، مہارت اور فٹنس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کی کارکردگی نے انہیں نہ صرف کاؤنٹی کرکٹ بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں مقام دلایا۔
ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1975 میں وزڈن کرکٹر آف دی ایئر منتخب کیا گیا، جو ہر کرکٹر کے لیے ایک بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 1978 میں کرکٹ کے لیے نمایاں خدمات پر انہیں ایم بی ای سے بھی نوازا گیا، جس سے ان کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
نارمن گفورڈ نے انگلینڈ کی جانب سے 1964 سے 1973 کے درمیان 15 ٹیسٹ میچز کھیلے، جن میں انہوں نے 33 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی بہترین ٹیسٹ کارکردگی پاکستان کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں سامنے آئی، جہاں انہوں نے 55 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور میچ کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 44 برس کی عمر میں انہوں نے شارجہ میں ہونے والے روتھمینز فور نیشنز کپ میں دو ون ڈے میچز میں انگلینڈ کی قیادت بھی کی۔ اگرچہ ان میچز میں انگلینڈ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم پاکستان کے خلاف میچ میں ان کی بولنگ ایک بار پھر نمایاں رہی، جہاں انہوں نے 23 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔
اپنے کیریئر کے آخری حصے میں وہ واروکشائر منتقل ہوئے اور پانچ سیزنز تک ٹیم کی کپتانی کے فرائض انجام دیے۔ 48 برس کی عمر میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کا تعلق ورسسٹرشائر سے جڑا رہا۔ وہ کلب کے صدر اور بعد ازاں اعزازی نائب صدر کے عہدے پر فائز رہے اور نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ان کی خدمات کے اعتراف میں ورسسٹرشائر اور واروکشائر کے درمیان کھیلے جانے والے میچز کے لیے ’’نارمن گفورڈ ٹرافی‘‘ بھی منسوب کی گئی ہے، جو ان کے شاندار کیریئر اور کرکٹ سے گہری وابستگی کی یاد دلاتی رہے گی۔نارمن گفورڈ کی وفات سے کرکٹ کا ایک سنہرا باب بند ہو گیا ہے، مگر ان کی کارکردگیاں، ریکارڈز اور کرکٹ کے لیے خدمات ہمیشہ شائقین کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
مزید پڑھیں :بابا وانگا کی ایک اور حیرت انگیز پیشین گوئی سچ ثابت ہو گئی،جا نئے کو نسی















