اہم خبریں

بابا وانگا کی ایک اور حیرت انگیز پیشین گوئی سچ ثابت ہو گئی،جا نئے کو نسی

اسلام آباد (اے بی این نیوز     ) بابا وانگا کی اسمارٹ فونز سے متعلق ان کی دہائیوں پرانی پیش گوئی، جو آج کے ڈیجیٹل دور میں حیران کن حد تک درست دکھائی دیتی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بابا وانگا نے کئی عشرے قبل کہا تھا کہ آنے والے وقت میں انسان اپنی روزمرہ زندگی کے بیشتر معاملات کے لیے چھوٹے الیکٹرانک آلات پر انحصار کرنے لگے گا۔ ان کے مطابق یہ آلات جہاں سہولت اور تیزی لائیں گے، وہیں انسانی تعلقات کی نوعیت میں بھی گہری تبدیلی پیدا کریں گے۔ اس وقت اس بات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تھا، مگر آج اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کا بڑھتا ہوا استعمال اس پیش گوئی کی عملی تصویر بنتا جا رہا ہے۔

موجودہ دور میں بچے ہوں یا بزرگ، ہر عمر کے افراد نہ صرف کام بلکہ تفریح، تعلیم، خریداری اور سماجی رابطوں کے لیے بھی انہی آلات پر انحصار کر رہے ہیں۔ دوستوں سے بات چیت ہو یا دفتر کا کام، آن لائن تعلیم ہو یا تفریحی مواد، سب کچھ اسمارٹ فون کی ایک اسکرین میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس کی طرف بابا وانگا نے برسوں پہلے اشارہ کیا تھا۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان ضرور بنایا ہے، مگر بابا وانگا نے اس کے ممکنہ منفی اثرات کی بھی پیشگی نشاندہی کی تھی۔ ان کے مطابق جیسے جیسے انسان ٹیکنالوجی کے قریب ہوتا جائے گا، ویسے ویسے حقیقی انسانی روابط میں کمی آتی جائے گی، جس کے اثرات ذہنی صحت پر نمایاں ہوں گے۔ آج یہ خدشات کسی حد تک درست ثابت ہوتے نظر آ رہے ہیں، کیونکہ اسکرین ٹائم میں مسلسل اضافے کے باعث تنہائی، بے چینی اور توجہ میں کمی جیسے مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں۔

خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں اسمارٹ فونز کا حد سے زیادہ استعمال ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق دیر تک اسکرین دیکھنے سے نہ صرف نیند متاثر ہوتی ہے بلکہ یادداشت، سیکھنے کی صلاحیت اور جذباتی توازن پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی ایک تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں بچے سونے سے قبل بستر میں اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف نیند متاثر ہوتی ہے بلکہ ذہنی اور جسمانی نشوونما پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین اسکرین کے ضرورت سے زیادہ استعمال کو ڈپریشن، بے چینی اور سماجی تنہائی جیسے مسائل سے بھی جوڑ رہے ہیں۔

بابا وانگا کو تاریخ میں اس لیے بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ ان کی متعدد پیش گوئیاں وقت گزرنے کے ساتھ درست ثابت ہوئیں، جن میں دوسری جنگِ عظیم، 11 ستمبر کے واقعات اور 2004 کے سونامی جیسے بڑے عالمی سانحات شامل ہیں۔ اسی وجہ سے اسمارٹ فونز سے متعلق ان کی یہ پرانی پیش گوئی آج ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اور لوگ حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ کس طرح ایک نابینا پیش گو نے دہائیوں پہلے مستقبل کے ڈیجیٹل کلچر کی جھلک دیکھ لی تھی۔ڈیجیٹل دور کے اس تیز رفتار سفر میں یہ پیش گوئی ہمیں ایک اہم پیغام بھی دیتی ہے کہ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ توازن قائم رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے، تاکہ حقیقی انسانی رشتے اور ذہنی صحت دونوں محفوظ رہ سکیں۔
مزید پڑھیں :

متعلقہ خبریں