اسلام آباد( اے بی این نیوز)رہنما پی ٹی آئی سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ آئین کے مطابق اپوزیشن لیڈر کا حق تاخیر سے سہی، تسلیم کر لیا گیا، اپوزیشن لیڈر کا انتخاب کسی کی مرضی نہیں، آئینی تقاضا ہے، آئین میں من پسند فیصلوں کی کوئی گنجائش نہیں، پاکستان اس وقت شدید معاشی مشکلات سے گزر رہا ہے،کسانوں کی قوتِ خرید کم، ٹریکٹرز کی فروخت آدھی رہ گئی، دہشتگردی کے باوجود کے پی کی کارکردگی بہتر رہی ہے.
اے بی این کے پروگرام’’تجزیہ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ ملک میں صنعتیں بند رہی ہیں، سرمایہ ملک چھوڑ کر جا رہا ہے ، کسان انویسٹ نہیں کر پا رہے، نقصان میں جا رہے ہیں، اس سال صرف 24 ہزار ٹریکٹر فروخت، پہلے 55 ہزار تھے،چاروں صوبوں کی فی کس گروتھ تشویشناک ہے، 8 فروری اور آر ٹی ایس میں زمین آسمان کا فرق ہے،17 نشستوں کو 170 بنانے کی کوشش کی گئی، پنجاب کی حالت بدلی نہیں، چہرے بدل دیے گئے.
دوسری جانب ،رہنما مسلم لیگ ن سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس اپنا اپوزیشن لیڈر لانے کی اہلیت ہی نہیں تھی،جس جماعت کے پاس بندہ نہ ہو، وہ فیصلہ کیسے کرے؟پی ٹی آئی اندرونی عدم اعتماد کا شکار ہے،پی ٹی آئی کے اندر کوئی ایسا شخص نہیں جس پر اعتماد ہو،جیل سے رہائی کا فیصلہ حکومت نہیں، عدالتیں کرتی ہیں،
پی ٹی آئی اپوزیشن بننا چاہتی ہے تو بات چیت ممکن ہے،کے پی میں 12 سالہ حکومت کے باوجود دہشتگردی عروج پر ہے.
انہوںنے کہا کہ 8 فروری کے نعرے، مگر کوئی عملی نتیجہ نہیں،سیاست نعروں سے نہیں، فیصلوں سے چلتی ہے،بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے،
حکومت قانون کے مطابق چلنے پر یقین رکھتی ہے،اگر قانون اپنا راستہ لے گا تو سب کو ماننا پڑے گا،پہلے آپس میں جھگڑا ہوا، پھر ان کے پاس امیدوار نہیں تھا،بانی پی ٹی آئی نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا اور وہ بن گیا.
تیسری جانب ،فواد چودھری نے کہا کہ دونوں اپوزیشن لیڈر کی تقرری ایک اچھاا قدام ہے،دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کے لیڈر اس ضمن میں کیا کردار ادا کرتے ہیں،تبدیلیوں کو ویلکم کرنا چاہیے، سیاسی ماحول میں بہتری کی امید ہے،اصل کام سیاسی رہنماؤں کی رہائی کے اقدامات ہیں، درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے،سیاست میں ذاتی تعلقات اور ریلیشن شپ ضروری ہیں،پی ٹی آئی میں ایسے لوگ موجود نہیں جو رابطہ کر سکیں،سب سے پہلے ماحول بہتر بنانے پر فوکس ضروری ہے، بانی کی رہائی کے لیے سازگار ماحول بنانے کی ضرورت ہے،سیاسی قیدیوں کی عدم رہائی مذاکرات ناکام بنا سکتی ہے،ناکامی کی صورت میں بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی.
انہوںنے کہا کہ اب پی ٹی آئی کی ڈرائیونگ سیٹ محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کے پاس ہے،محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباسی کے پاس ایک آئینی اور سیاسی رول بھی آگیا ہے،اگر سیاسی قیدیوں کو رہا نہیں کیا گیا، مذاکرات ناکام ہوں گے،یہ بھی ہوسکتا ہے پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ناکام ہوجائے،ناکامی کی قیمت بہت بڑی ہوگی، اور سہیل افریدی کے پاس کوئی دوسرا چانس نہیں،ناکامی کی صورت میں لانگ مارچ ہوگا اور وفاقی حکومت کا سخت ردعمل دے گی،مذاکرات آئین کی بالا دستی پر کیے جائیں گے،
لیکن قیدیوں کی رہائی کے بغیر کوئی اثر نہیں ہوگا.















