نئی دہلی( اے بی این نیوز ) کورونا کے بعد ایک اور خطرناک وائرس نپاہ ایک بار پھر خبروں میں ہے، جس نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نپاہ وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں، جس کے بعد صحت کے اداروں نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ماہرین صحت اس وائرس کو کورونا سے بھی زیادہ مہلک قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس کی شرح اموات ماضی میں بہت زیادہ دیکھی گئی ہے۔
نپاہ وائرس ایک زونوٹک وائرس ہے، یعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس وائرس کی پہلی بار شناخت 1998 اور 1999 میں ملائیشیا میں ہونے والی ایک وبا کے دوران ہوئی تھی۔ اس کے قدرتی میزبان چمگادڑ ہیں، خاص طور پر فروٹ بیٹس۔ انسان اس وائرس سے براہ راست متاثرہ چمگادڑ کے رابطے سے، آلودہ پھل یا خوراک کھانے سے، متاثرہ جانوروں سے یا پھر کسی متاثرہ انسان کے قریبی رابطے میں آنے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
نپاہ وائرس کی علامات ابتدا میں عام فلو جیسی محسوس ہو سکتی ہیں، جس کی وجہ سے اکثر لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن یہی لاپرواہی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ابتدائی علامات میں تیز بخار، شدید سر درد، پٹھوں میں درد، گلے میں خراش، متلی، قے اور غیر معمولی تھکن شامل ہیں۔ کچھ مریضوں میں کھانسی اور سانس کی ہلکی تکلیف بھی شروع ہو جاتی ہے۔
اگر بیماری بڑھ جائے تو نپاہ وائرس دماغ کو متاثر کر سکتا ہے اور مریض کی حالت تیزی سے بگڑنے لگتی ہے۔ شدید علامات میں سانس لینے میں شدید دشواری، ذہنی الجھن، بولنے میں دقت، دورے پڑنا، بے ہوشی اور دماغ کی سوزش شامل ہیں۔ کئی کیسز میں مریض کوما میں بھی جا سکتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
نپاہ وائرس کی سب سے خوفناک بات اس کی شرح اموات ہے۔ مختلف وباؤں میں یہ شرح 40 سے 75 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے، جو اسے دنیا کے مہلک ترین وائرسز میں شامل کرتی ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت تک اس کے لیے کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا یا ویکسین منظور نہیں ہوئی۔ علاج کا انحصار صرف علامات کو کنٹرول کرنے، مریض کو آکسیجن دینے، جسمانی افعال کو برقرار رکھنے اور مزید پیچیدگیوں سے بچانے پر ہوتا ہے۔
احتیاطی تدابیر اس وائرس سے بچاؤ کا واحد مؤثر ذریعہ ہیں۔ چمگادڑوں سے دور رہنا، گرے ہوئے یا کچے پھل نہ کھانا، آلودہ خوراک سے پرہیز کرنا، ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنا اور کسی مشتبہ مریض کے قریب جاتے وقت ماسک اور دستانے استعمال کرنا بے حد ضروری ہے۔ اگر کسی شخص کو تیز بخار، شدید سر درد یا سانس کی تکلیف ہو تو فوراً قریبی اسپتال سے رجوع کرنا چاہیے اور خود کو دوسروں سے الگ رکھنا چاہیے۔
نپاہ وائرس ایک خاموش مگر نہایت خطرناک بیماری ہے، جس کے بارے میں بروقت آگاہی اور احتیاط ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ سوشل میڈیا پر درست معلومات پھیلانا اور افواہوں سے بچنا بھی اس وبا کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں :نویں اور گیارہویں جماعت کے پاسنگ مارکس تبدیل، نوٹیفکیشن جاری















