اہم خبریں

ایف بی آرنےبے نامی ٹرانزیکشنز کیس کا نوٹس لے لیا،وسیع پیمانے پت تحقیقات شروع کر دی گئیں

لاہور (اے بی این نیوز ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ماتحت بے نامی زون II لاہور نے بے نامی ٹرانزیکشنز (پرہیبیشن) ایکٹ 2017 کے تحت میسرز اے ایچ جی فلیورز (پرائیویٹ) لمیٹڈ سے متعلق ایک کیس میں شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یہ نوٹس ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جس میں کمپنی سے مبینہ بے نامی لین دین پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔

سرکاری نوٹس کے مطابق، 6 جنوری 2026 کو محکمہ کو ایک تحریری شکایت موصول ہوئی تھی، جس میں الزام لگایا گیا کہ مالی سال 2017-18 کے دوران تقریباً 32.275 ملین روپے کی بے نامی سرمایہ کاری کی گئی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم بظاہر کسی اور کے نام پر ظاہر کی گئی، تاہم اس سے فائدہ میسرز اے ایچ جی فلیورز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو پہنچا۔

نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ مبینہ رقم بینکنگ چینلز کے ذریعے منتقل کی گئی اور اسے اے ایچ جی فلیورز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے کارپوریٹ بینک اکاؤنٹ میں جمع کرایا گیا، جو بینک الحبیب لمیٹڈ، بلاک وائی، ڈیفنس برانچ لاہور میں قائم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس لین دین کی نوعیت اور ذرائع پر شبہات پیدا ہوئے ہیں، جس کے بعد قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

اے ایچ جی فلیورز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پاکستان کے فوڈ اور ریٹیل سیکٹر میں ایک معروف نام ہے اور یہ امریکہ کے مشہور آئس کریم برانڈ باسکن رابنز کی پاکستان میں ماسٹر فرنچائز اور ماسٹر لائسنسنگ رائٹس رکھتی ہے۔ کمپنی کے تحت باسکن رابنز کے آؤٹ لیٹس ملک کے مختلف شہروں میں کام کر رہے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق، پاکستانی قانون میں بے نامی لین دین کو ایک سنگین مالی جرم تصور کیا جاتا ہے، جو اکثر منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری سے جوڑا جاتا ہے۔ بے نامی ٹرانزیکشنز (پرہیبیشن) ایکٹ 2017 کے تحت اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو ذمہ دار افراد کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں پانچ سال تک قید اور بھاری مالی جرمانے شامل ہیں۔

تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شوکاز نوٹس کا اجرا محض قانونی عمل کا ابتدائی مرحلہ ہوتا ہے اور اسے کسی بھی صورت سزا یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ قانون کے مطابق متعلقہ فریق کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نوٹس کے جواب میں اپنا مؤقف پیش کرے اور تمام ضروری وضاحتیں دے، جس کے بعد ہی حکام آئندہ کی قانونی کارروائی کا فیصلہ کریں گے۔

مزید پڑھیں :زلزلہ، شدت ریکٹر اسکیل پر5.8 ریکارڈ کی گئی

متعلقہ خبریں