نئی دہلی (اے بی این نیوز ) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ایران کی چابہار پورٹ سے علیحدگی کے بعد اپنے ہی ملک میں شدید سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں کہا گیا کہ “نریندر مودی نے پھر کیا ٹرمپ کے آگے سرینڈر”۔ ویڈیو میں بتایا گیا کہ بھارت نے معاہدے کے تحت چابہار بندرگاہ پر 10 سال کے لیے انتظام سنبھالا تھا، لیکن امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد بھارت نے عملی طور پر بندرگاہ سے علیحدگی اختیار کر لی اور کنٹرول ایران کے حوالے کر دیا۔
کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ بھارت نے پابندیوں کے نفاذ سے قبل ایران کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کر دی، جس کے بعد ایران اب اس سرمایہ کو بھارت کی شمولیت کے بغیر بندرگاہ کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔یہ اقدام بھارتی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے اور اپوزیشن اسے نریندر مودی کی پالیسیوں کے نتیجے میں ملکی نقصان قرار دے رہی ہے۔اس معاملے نے بھارت میں حکومتی پالیسیوں اور عالمی پابندیوں کے تناظر میں نریندر مودی کی قیادت پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ اپوزیشن نے حکومت کی حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
مزید پڑھیں :موسم سرما کی چھٹیاں،تعلیمی اداروں کے حوالے سے اہم خبر آگئی،جا نئے نئے احکامات بارے















