اہم خبریں

مہاجرین کشمیر کے خلاف منفی مہم پر شدید تحفظات،وزیراعظم کو مکتوب ارسال

اسلام آباد (رضوان عباسی سے)آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور مہاجر رکن اسمبلی عبدالماجد خان نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو ایک تفصیلی مکتوب ارسال کرتے ہوئے پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے خلاف جاری منفی مہم پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم کو لکھے گئے مکتوب میں عبدالماجد خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک مخصوص گروہ کی جانب سے مہاجرین جموں و کشمیر کے خلاف منفی پروپیگنڈا بے بنیاد، گمراہ کن اور قومی مفادات کے منافی ہے۔ انہوں نے مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 آئینی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے کو غیر آئینی، غیر اخلاقی اور مسئلہ کشمیر کے بنیادی مؤقف کے خلاف قرار دیا۔

مکتوب میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کی آئینی نشستوں کا خاتمہ نہ صرف مسئلہ کشمیر بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔ عبدالماجد خان کے مطابق آئین آزاد جموں و کشمیر 1974 مہاجرین کو ناقابل تنسیخ نمائندگی کا حق دیتا ہے اور یہی نشستیں آزاد کشمیر کی قانونی اور آئینی حیثیت کی بنیاد ہیں۔

سابق وزیر خزانہ نے خبردار کیا کہ اگر مہاجرین کی نشستیں ختم کی گئیں تو لائن آف کنٹرول کے پار بسنے والے کشمیریوں میں شدید مایوسی پھیلے گی اور پاکستان کے قومی و سفارتی مؤقف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ مکتوب میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ مہاجرین کی آئینی حیثیت کمزور ہونے سے ایک بڑا پنڈورا باکس کھل جائے گا جس کے اثرات دور رس ہوں گے۔

عبدالماجد خان نے مطالبہ کیا کہ مہاجرین جموں و کشمیر کو محض مالی امداد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں مکمل آئینی شناخت اور نمائندگی دی جائے۔ مکتوب میں قائداعظم محمد علی جناح کے اس تاریخی مؤقف کا حوالہ بھی دیا گیا کہ “کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے”، اور کہا گیا کہ ایسے میں کشمیری مہاجرین کو ان کے آئینی حقوق سے محروم کرنا نہایت تشویشناک امر ہے۔

ذرائع کے مطابق اس مکتوب کی نقول صدر مملکت، وفاقی قیادت اور اہم قومی اداروں کو بھی ارسال کی گئی ہیں تاکہ معاملے کی حساسیت اور سنگینی سے اعلیٰ سطح پر آگاہی فراہم کی جا سکے۔:
مزید پڑھیں: بھونیشور میں پٹرول کی قیمت میں کمی: تازہ ترین قیمت جانیئے

متعلقہ خبریں