کراچی (اے بی این نیوز) کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔ دھویں کے باعث متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا، آگ پر 10 گھنٹے بعد بھی قابو نہ پایا جا سکا۔
فائر بریگیڈحکام کا کہنا ہے کہ 20 فائر ٹینڈرز، 4 اسنارکل اور ایک واٹر باوزر کی مدد سے آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، پاک بحریہ کے فائر ٹینڈرز بھی آگ بجھانے میں مصروف جبکہ آگ کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا ہے۔
سینئر فائر آفیسر عارف منصوری نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں فائر فائٹرز داخل نہیں ہوسکے، تپش زیادہ ہونےکی وجہ سے اندر داخل ہونےمیں مشکلات ہیں۔جاں بحق چار افراد کی شناخت فراز، کاشف، عامر اور شہروز کے نام سے ہوئی۔
چیف فائر آفیسر کا کہنا ہے کہ عمارت میں زوردار دھماکا ہوا، جس کے بعد آگ مزید پھیل گئی ہے، دھماکا گیس لیکج کے باعث ہوا۔
ریسکیو آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کی سیڑھیاں ٹوٹنے سے 2 افراد گر کر زخمی ہو گئے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق شاپنگ پلازہ میں دکانوں کی تعداد تقریباً 1200 ہے۔
آتشزدگی کے باعث اطراف کے علاقوں میں تبت چوک سے گارڈن چوک ایم اے جناح روڈ اور انکل سریا چوک سے سینٹرل پلازہ تک ماسٹن روڈ بند ہے۔
ٹریفک کو تبت چوک سے جوبلی کی طرف اور انکل سریا چوک سے ٹینکر چورنگی اور گارڈن چوک کی طرف منتقل کردیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ شہریوں کیلئے محفوظ راستے کیلئے متبادل ٹریفک روٹس بنائے جائیں، ایس ایس پی سٹی آگ لگنے کی وجوہات کا پتا لگائیں۔
وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ عمارت میں آگ کو پھیلنے سے روکا جائے، فائر بریگیڈ گاڑیوں اور عملے کی رسائی کے لیے راستوں کو کلیئر رکھا جائے۔
ترجمان سندھ رینجرز کا کہنا ہے کہ رینجرز کے دستے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور اہلکار امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
ترجمان سندھ رینجرز کا بتانا ہے کہ امدادی آپریشن مکمل ہونے تک رینجرز کے افسران اور جوان حادثے کی جگہ موجود رہیں گے۔
فائر ٹینڈرز کے ساتھ ساتھ رینجرز کے جوان پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں، قیمتی املاک اور سامان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بھی سندھ رینجرز کی جانب سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں: تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان، نئے اوقات کار جاری















