اسلام آباد (اے بی این نیوز)کیسپرسکی نے خبردار کیا ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ٹیلی کام سیکٹر کو درپیش سائبر سیکیورٹی خطرات 2026 تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ کیسپرسکی سیکیورٹی بلیٹن کے مطابق 2025 میں ایڈوانسڈ پرسسٹنٹ تھریٹس (APT)، سپلائی چین حملے، ڈی ڈاس (DDoS) رکاوٹیں اور سم سے منسلک فراڈ نے ٹیلی کام آپریٹرز پر مسلسل دباؤ ڈالے رکھا، جبکہ جدید ٹیکنالوجیز کیے فروغ نے نئے آپریشنل خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران ٹیلی کام آپریٹرز کو متعدد سنگین خطرات کا سامنا رہا۔ ٹارگٹڈ سائبر حملوں کا مقصد طویل مدت تک خفیہ رسائی حاصل کر کے جاسوسی اور نیٹ ورک میں اثر و رسوخ بڑھانا تھا۔ سپلائی چین کی کمزوریاں بھی ایک بڑا مسئلہ رہیں کیونکہ ٹیلی کام نیٹ ورکس متعدد وینڈرز اور مربوط پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں، جس کے باعث کسی ایک سافٹ ویئر یا سروس میں خامی پورے نیٹ ورک کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
کیسپرسکی سیکیورٹی نیٹ ورک کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان ٹیلی کام سیکٹر کے 12.79 فیصد صارفین کو ویب پر مبنی خطرات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 20.76 فیصد صارفین ڈیوائس پر موجود خطرات سے متاثر ہوئے۔ اسی عرصے میں دنیا بھر کے 9.86 فیصد ٹیلی کام ادارے رینسم ویئر یعنی تاوان کی غرض سے کیے جانے والے حملوں کا شکار بنے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیلی کام سیکٹر اب تیز رفتار تکنیکی ترقی کے مرحلے سے نکل کر وسیع پیمانے پر نفاذ کی جانب بڑھ رہا ہے، اور یہی تبدیلی 2026 میں نئے مواقع کے ساتھ ساتھ نئے آپریشنل خطرات بھی پیدا کر سکتی ہے۔ کیسپرسکی نے نشاندہی کی ہے کہ اگر اے آئی پر مبنی نیٹ ورک مینجمنٹ، پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی اور فائیو جی سے سیٹلائٹ انضمام جیسی ٹیکنالوجیز کو مناسب منصوبہ بندی اور مضبوط سیکیورٹی کنٹرولز کے بغیر نافذ کیا گیا تو یہ نیٹ ورک میں خلل اور سیکیورٹی مسائل کا باعث بن سکتی ہیں۔
کیسپرسکی گلوبل ریسرچ اینڈ اینالیسس ٹیم کے سینئر سیکیورٹی ریسرچر لیونید بیزورشینکو کے مطابق 2025 میں غالب رہنے والے سائبر خطرات ختم نہیں ہو رہے بلکہ اب وہ نئی ٹیکنالوجیز سے جڑے آپریشنل خدشات کے ساتھ مل کر مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو ایک جانب روایتی سائبر حملوں کے خلاف مضبوط دفاع برقرار رکھنا ہوگا اور دوسری جانب نئی ٹیکنالوجیز میں آغاز ہی سے سیکیورٹی کو شامل کرنا ہوگا۔
کیسپرسکی نے سفارش کی ہے کہ ٹیلی کام ادارے مسلسل تھریٹ انٹیلی جنس پر توجہ دیں، اے پی ٹی سرگرمیوں اور اہم انفراسٹرکچر کی نگرانی کریں اور ملازمین کے لیے باقاعدہ سیکیورٹی آگاہی تربیت کو یقینی بنائیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اے آئی پر مبنی نیٹ ورک آٹومیشن کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے، اہم فیصلوں میں انسانی نگرانی برقرار رکھی جائے۔
مزید پڑھیں :جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور شہادتوں کی سیاست کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے ، خرم دستگیر















