اہم خبریں

دی ملینیم یونیورسل کالج سکینڈل بے نقاب، اجازت کے بغیر تعلیمی پروگرامز شروع کر نے پر نوٹس

اسلام آباد(اے بی این نیوز) پاکستان بار کونسل (PBC) نے دی ملینیم یونیورسل کالج (TMUC) کی جانب سے بغیر لازمی نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) کے داخلے دینے پر سخت نوٹس لے لیا ہے۔ یہ ادارہ اپنے بانی اور سی ای او ڈاکٹر فیصل مشتاق کی قیادت میں مبینہ طور پر غیر منظور شدہ پروگرامز میں داخلے دے رہا تھا۔

پاکستان بار کونسل کی جانب سے 13 جنوری 2026 کو جاری کیے گئے سرکاری خط کے مطابق، TMUC راولپنڈی کیمپس میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف ہرٹفورڈشائر سے منسلک دو سالہ ہائر نیشنل ڈپلومہ (HND) اور ایک سالہ یو کے ٹاپ اَپ پروگرام کی تشہیر اور داخلے دیے جا رہے تھے، حالانکہ ان پروگرامز کی پاکستان بار کونسل سے کوئی منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی۔

بار کونسل نے واضح کیا کہ اس نے ماضی میں صرف TMUC کے ڈی ایچ اے لاہور کیمپس کو یونیورسٹی آف ہرٹفورڈشائر سے منسلک تین سالہ ایل ایل بی پروگرام کے لیے این او سی جاری کیا تھا۔ راولپنڈی کیمپس اور HND کے بعد ٹاپ اَپ پروگرام کی کسی بھی سطح پر منظوری نہیں دی گئی۔

پاکستان بار کونسل نے ڈاکٹر فیصل مشتاق کو جاری کیے گئے سخت نوٹس میں کہا کہ بغیر اجازت پروگرام شروع کرنا اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی تشہیر کرنا ضابطہ جاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کونسل نے TMUC کو فوری طور پر اشتہارات واپس لینے اور مذکورہ پروگرام میں داخلے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

بار کونسل نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلاف ورزیاں جاری رہیں تو TMUC کے دیگر کیمپسز کے این او سیز بھی منسوخ کیے جا سکتے ہیں اور ادارے کے خلاف جرمانہ یا دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

اس پیش رفت نے طلبہ اور والدین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ بغیر بار کونسل کی منظوری کے قانون سے متعلقہ پروگرام میں داخلہ لینے کی صورت میں طلبہ کا پاکستان میں وکالت کرنے کا حق متاثر ہو سکتا ہے۔

پاکستان بار کونسل نے TMUC سے باقاعدہ وضاحت طلب کر لی ہے کہ غیر منظور شدہ پروگرام کی تشہیر اور داخلوں کا آغاز کس بنیاد پر کیا گیا۔

مزید پڑھیں :امریکہ کا پاکستان سمیت75 ممالک کے شہریوں کیلئے امیگرنٹ ویزا پراسس روکنے کا اعلان

متعلقہ خبریں