اہم خبریں

پاکستان میں سائبر جرائم، ڈیجیٹل ترقی کے سائے میں خاموش وبا

اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان میں ڈیجیٹل سہولیات کا پھیلائو بظاہر ترقی کی علامت ہے، مگر اسی ترقی کے سائے میں سائبر جرائم ایک خاموش وبا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ موبائل فون، آن لائن بینکنگ، سوشل میڈیا، گیمینگ ایپس اور ڈیجیٹل روزگار نے زندگی کو آسان بنایا ہے، لیکن یہ پلیٹ فارمز مجرموں کے لیے نئے مواقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آج پاکستان میں سائبر جرائم صرف فیس بک یا ای میل تک محدود نہیں ہیں۔ جعلی کال سینٹر اسکیمز، واٹس ایپ OTP فراڈ، آن لائن گیمنگ سرور دھوکہ دہی، غیر قانونی آن لائن جوا اور جعلی نوکریوں کے فراڈ روزمرہ حقیقت بن چکے ہیں۔ زیادہ تر متاثرین کو نقصان کے بعد ہی خطرے کا ادراک ہوتا ہے۔

واٹس ایپ OTP فراڈ اس کا ایک واضح مثال ہے، جہاں مجرم صارف کا اکاؤنٹ ہائی جیک کر کے دوستوں اور رشتہ داروں سے رقم طلب کرتے ہیں۔ اسی طرح جعلی کال سینٹرز خود کو بینک یا سرکاری ادارہ ظاہر کر کے شہریوں سے حساس معلومات حاصل کرتے ہیں۔

نوجوانوں کے لیے آن لائن گیمنگ تفریح ہے، لیکن سائبر مجرم اسے منافع بخش میدان بنا چکے ہیں۔ فری گیم کوائنز، ہیک ٹولز یا پرائیویٹ سرورز کے نام پر اکاؤنٹس ہیک کیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب آن لائن جوا اور بیٹنگ ایپس نہ صرف مالی نقصان بلکہ قانونی مسائل بھی پیدا کر رہی ہیں۔

روزگار کے متلاشی نوجوان بھی جعلی نوکریوں کے فراڈ کا آسان شکار ہیں۔ سوشل میڈیا پر بیرون ملک یا آن لائن ملازمتوں کے اشتہارات دے کر رجسٹریشن یا پراسیسنگ فیس وصول کی جاتی ہے، مگر نتیجہ ہمیشہ مایوسی کی صورت نکلتا ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سائبر جرائم کے خلاف تفتیش، گرفتاری، رقوم کی بازیابی اور آگاہی مہمات میں مصروف ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کامیابی کے لیے عوام کی محتاط رویہ بھی ضروری ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ ڈیجیٹل ذمہ داری کو بھی قبول کرنا لازمی ہے۔ مشکوک لنکس پر کلک نہ کرنا، OTP یا پاس ورڈ شیئر نہ کرنا، آن لائن جوا اور غیر مصدقہ ایپس سے اجتناب، اور سوشل میڈیا پر حد سے زیادہ معلومات فراہم نہ کرنا شہریوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات ہیں۔

حکومت کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ سائبر آگاہی کو وقتی مہم کے بجائے مستقل قومی پالیسی بنایا جائے۔ تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کی بنیادی تعلیم، میڈیا پر مسلسل آگاہی پیغامات، اور سادہ رپورٹنگ نظام مستقبل کے نقصانات کم کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر جرائم کے خلاف جنگ صرف قانون یا ٹیکنالوجی سے نہیں جیتی جا سکتی، بلکہ شعور، احتیاط اور اجتماعی ذمہ داری ہی سب سے مضبوط حفاظتی دیوار ہے۔
مزید پڑھیں‌:ایران نے امریکی کمپنی سٹار لنک کے آلات ضبط کر لیے

متعلقہ خبریں