لاہور (اے بی این نیوز) ای بز پورٹل پر شہریوں اور کاروباری افراد کی رجسٹریشن کا طریقہ کار سامنے آگیا، یکم مارچ تک ای بز پورٹل پر 310 سروسز دستیاب ہوں گی۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے ای بز پورٹل کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے یکم فروری تک 200 سے زائد سرکاری اور کاروباری خدمات آن لائن فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد شہریوں اور کاروباری افراد کو دفاتر کے چکر لگانے، لمبی قطاروں اور غیر ضروری تاخیر سے بچانا ہے۔
پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تیار کردہ ای بز پورٹل کو حکومت کی کاروبار کرنے میں آسانی کی پالیسی کا اہم ستون قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق ڈیجیٹل سسٹم سے نہ صرف وقت اور اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ اس سے شفافیت بڑھے گی اور بدعنوانی کے امکانات بھی کم ہوں گے۔
ای بز پورٹل ایک ون ونڈو ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جہاں شہری اور کاروباری افراد ایک ہی جگہ سے مختلف سرکاری اجازت نامے، رجسٹریشن اور لائسنس حاصل کر سکتے ہیں۔
پلیٹ فارم نے سرمایہ کاری کی منظوریوں، تعمیراتی اجازت ناموں اور صنعتی لائسنسنگ کے عمل کو تیز تر اور شفاف بنایا ہے۔
عہدیداروں نے کہا کہ پورٹل میں شامل یا زیر شامل محکموں میں محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ، انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ، انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے)، بلڈنگ کنٹرول اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹیز، پروفیشنل ٹیکس اور فیس اور کچھ زمین کے استعمال کے اجازت نامے شامل ہیں۔
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ یکم مارچ تک ای بز پورٹل پر 310 خدمات دستیاب ہوں گی، جو صوبے کی تقریباً تمام بڑی سرکاری خدمات کو ایک پلیٹ فارم پر منتقل کر دے گی۔
شہری اور کاروباری افراد ebiz.punjab.gov.pk پر جا کر اپنا CNIC نمبر، ای میل اور بنیادی معلومات استعمال کر کے رجسٹر کر سکتے ہیں۔
رجسٹریشن کے بعد، صارفین مطلوبہ سروس کا انتخاب کر سکتے ہیں، دستاویزات اپ لوڈ کر سکتے ہیں، آن لائن فیس ادا کر سکتے ہیں اور درخواست کی پیشرفت کو ٹریک کر سکتے ہیں۔
حکام نے کہا کہ ای بز پورٹل پنجاب میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس نظام کی کامیابی کا انحصار تمام محکموں کے مکمل انضمام اور عوام کے لیے استعمال میں آسانی پر ہے۔ اگر اس منصوبے کو موثر انداز میں نافذ کیا جائے تو پنجاب گورننس اور کاروباری سہولتوں میں ایک نئی مثال قائم کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:عازمین حج کے لیے اہم خبر سامنے آ گئی















