اسلام آباد( اے بی این نیوز )پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اخوانزادہ چٹان نے اے بی این نیوز کے پروگرام ’’تجزیہ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینِ پاکستان ہر شہری کو پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، اور پنجاب حکومت نے اسی آئینی حق کے تحت احتجاج کے لیے اجازت اور مکمل تعاون فراہم کیا۔انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو پنجاب میں عزت، سہولت اور معاونت دی گئی، اس کے باوجود ان کا رویہ اور پولیس کے خلاف ہنگامہ آرائی افسوسناک ہے۔ اخوانزادہ چٹان کے مطابق پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کو احتجاج کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا جبکہ سندھ حکومت نے جلسے کے انتظامات میں بھرپور تعاون کیا۔ان کا کہنا تھا کہ شرکاء کی سہولت کے لیے کنٹینرز کا انتظام، راستوں کو محفوظ بنانا، متبادل گزرگاہیں کھلی رکھنا اور سیکیورٹی اہلکاروں کی رات بھر نگرانی جیسے اقدامات کیے گئے۔ تمام انتظامات قانون، ضابطے اور عوامی تحفظ کو مدنظر رکھ کر کیے گئے۔دوسری جانب،
پیپلز پارٹی کے سینیٹر ناصر بٹ نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دو دن پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ پی ٹی آئی کراچی جا کر بدامنی کرے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے مہمان نوازی اور سیکیورٹی دی، اس کے باوجود سڑکیں بند کی گئیں، گاڑیاں توڑی گئیں اور پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا گیا۔سینیٹر ناصر بٹ نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی سیاست شور شرابے، قانون شکنی اور ہنگامہ آرائی پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا کوئی ایک جلسہ بھی ایسا نہیں جو مکمل طور پر پُرامن رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی اور کور کمانڈر ہاؤس حملے میں ملوث عناصر کے کردار بھی بے نقاب ہو چکے ہیں اور عوام بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کو چھوڑ چکے ہیں۔
ادھر پی ٹی آئی کے سینیٹر ہمایوں مہمند نے بھی پروگرام میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سیاسی اختلاف کے باوجود جمہوری روایت قائم کی، جس پر ہم شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک صوبے کے وزیر کو جو آئینی حق بنتا ہے وہ دیا گیا، تاہم حیدرآباد کے معاملے پر غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔سینیٹر ہمایوں مہمند کے مطابق جلسے کے دن صبح مقام کی اطلاع دی گئی، جس سے انتظامی مشکلات پیدا ہوئیں، جبکہ واپسی پر پولیس اسکواڈ کے باوجود سات گھنٹے لگے۔ انہوں نے کنٹینرز لگانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ اتنے بڑے عوامی اجتماع کے سامنے کنٹینرز اور بھاری نفری نہیں ہونی چاہیے تھی۔ان کا کہنا تھا کہ کسی مقام پر جمع ہونا جرم نہیں، جرم تب بنتا ہے جب سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جائے یا تشدد کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آنسو گیس سے بچاؤ کا سامان رکھنا جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ سہیل آفریدی کسی وڈیرہ یا صنعتی پس منظر سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ طالب علمی سے سیاست میں آ کر وزیر بنے، جو بعض حلقوں کو ناگوار گزر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی تاریخ کو سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے اور پی ٹی آئی پر الزامات لگانا دوہرا معیار ہے۔
مزید پڑھیں :شیر افضل مروت پی ٹی آئی کے خلاف کھل کر سامنے آگئے،سہیل آفریدی کو نشانہ بنا ڈالا















