اہم خبریں

بجلی صارفین ہو جائیں تیار،بڑا جھٹکا لگنے والا ہے،ہزاروں ارب کا بوجھ ڈالنے کی منصوبہ بندی بے نقاب،جا نئے تفصیلات

اسلام آباد(اے بی این نیوز     ) 2026 میں بھی بجلی صارفین کو مہنگی بجلی اور کیپسٹی پیمنٹس کی شکل میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں سال عام صارفین کی جیبوں سے 2 ہزار ارب روپے سے زائد رقم صرف کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں نکلنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ 2026 کے دوران کیپسٹی پیمنٹس کا مجموعی حجم 2 ہزار 163 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح پاور پرچیز پرائس رواں سال 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ رہنے کا اندازہ ہے، جبکہ 2026 کے لیے بجلی کی خریداری پر مجموعی لاگت 3 ہزار 185 ارب روپے تک جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں سال بجلی کی سب سے زیادہ پیداوار پانی اور جوہری ایندھن سے حاصل کی جائے گی، تاہم 2026 میں درآمدی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی سب سے مہنگی ہوگی، جس کی لاگت 45 روپے 94 پیسے فی یونٹ تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔دستاویز میں مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی فی یونٹ لاگت بھی بتائی گئی ہے۔ جوہری ایندھن سے بجلی 20 روپے 85 پیسے، درآمدی ایل این جی سے 28 روپے 95 پیسے فی یونٹ پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔ اسی طرح فرنس آئل سے بجلی کی لاگت 45 روپے 97 پیسے، مقامی کوئلے سے 25 روپے 27 پیسے فی یونٹ ہوگی۔

دوسری جانب نسبتاً سستے ذرائع میں بگاس سے بجلی 17 روپے 66 پیسے، مقامی گیس سے 14 روپے 51 پیسے جبکہ پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کی فی یونٹ لاگت تقریباً 12 روپے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
کیپسٹی پیمنٹس اور مہنگے پیداواری ذرائع پر انحصار کے باعث بجلی کے نرخوں میں کمی کے امکانات کم ہیں۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات لا کر مہنگی بجلی اور بڑھتے بوجھ سے صارفین کو ریلیف دیا جائے، ورنہ 2026 عام آدمی کے لیے مزید مشکل سال ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں :ملک بھر میں آٹا مزید مہنگا

متعلقہ خبریں