پشاور(اے بی این نیوز) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ایک قانونی تنازع پھنس گئے، ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں استغاثہ کی جانب سے انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرائی گئی ایک فرانزک رپورٹ میں انہیں واقعے کی مبینہ ویڈیو فوٹیجز میں نظر آنے والے مشتبہ افراد میں شامل قرار دیا گیا ہے۔
قومی اخبار میں شائع خبر کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی تیار کردہ یہ رپورٹ مئی 2023 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پشاور میں ریڈیو پاکستان کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی فوٹیج پر مبنی ہے۔
گزشتہ ماہ عدالت نے حکم دیا تھا کہ ویڈیو کلپس فرانزک جانچ کے لیے بھجوائے جائیں اور رپورٹ پیش کی جائے۔اس موقع پر وکیل دفاع کی جانب سے فوٹیج کی افادیت یا قانونی حیثیت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا تھا۔
حکام نے تجزیے کے لیے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش اور تحریک انصاف کے دو دیگر رہنماؤں عرفان سلیم اور عامر خان چمکنی کی تصاویر اور ویڈیو کلپس فراہم کیے تھے۔ ان میں سے کسی کو بھی اس کیس میں نامزد نہیں کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں پی ایف ایس اے نے دو نکات پر رائے دی: آیا یو ایس بی میں موجود ویڈیوز اصلی ہیں اور آیا جن افراد کی پروفائل تصاویر دی گئیں وہ ویڈیو کلپس میں نظر آتے ہیں یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ سمیت پانچوں افراد ویڈیوز میں دکھائی دیتے ہیں تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا یہ ویڈیوز ریڈیو پاکستان حملے سے متعلق ہیں یا کسی اور واقعے کی ہیں۔
البتہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ نہیں کی گئی، سوائے مختلف کیمروں سے بنائی گئی فوٹیجز کو یکجا کرنے کے۔اس کیس سے باخبر ایک قانونی ماہر کے مطابق اس شواہد کے بعد تفتیشی افسر ضمنی چالان کے ذریعے مزید ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں نامزد کر سکتا ہے جبکہ عدالت خود بھی اس معاملے کا نوٹس لے سکتی ہے۔
اسی طرح پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن بھی فرانزک رپورٹ کی روشنی میں ملزمان کی شمولیت کے لیے درخواست دائر کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں،عباس عراقچی















