اہم خبریں

سرکاری ہسپتالوں میں عملے کے حوالے سے بڑا حکومتی فیصلہ

لاہور (اے بی این نیوز) پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں سکیورٹی اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے کے لیے نئے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری اسپتالوں کے سیکیورٹی گارڈز، وارڈ بوائز، نرسز اور فارمیسی اسٹاف کے لیے باڈی کیمرے متعارف کرائے جائیں گے، جس کی بنیاد پر ان کی کارکردگی اور رویے کو مانیٹر کیا جائے گا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ڈیوٹی کے دوران ڈاکٹروں اور نرسوں کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی ہوگی تاکہ مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

وزیراعلیٰ نے ہسپتالوں میں تعینات پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز کے خلاف عوامی شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سخت کارروائی اور احتساب کا حکم دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ صبح 9 بجے تک مکمل صفائی کی جائے تاکہ حفظان صحت کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب میں دو سال سے بھی کم عرصے میں 2500 سے زائد ڈاکٹروں کو نوکریاں مل چکی ہیں۔ اس کے علاوہ دل کی ادویات کی ہوم ڈیلیوری کے لیے 5 لاکھ 85 ہزار مریضوں کو رجسٹر کیا گیا ہے جبکہ ہیپاٹائٹس اور تپ دق کے 6 ہزار مریض گھر بیٹھے ادویات حاصل کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے سرکاری ہسپتالوں کے لیے نئی اور جدید ادویات کی فہرست تیار کرنے اور اس کے لیے خصوصی کمیٹی بنانے کا بھی حکم دیا۔ انہوں نے ادویات کی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ادویات کے لیے 80 ارب روپے مختص کر رہی ہے، ادویات کی عدم دستیابی سمجھ سے باہر ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہسپتالوں میں ادویات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فول پروف میکنزم بنانے کا بھی حکم دیا۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب بھر میں ایم ایس (میڈیکل سپرنٹنڈنٹ) کا پول قائم کیا جائے گا جس کی تنخواہ کارکردگی کے مطابق ہوگی۔ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کو ہسپتال کے سروے کرنے کی ذمہ داری بھی دی جائے گی۔ صحت کے شعبے میں عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کی تاثیر کا جائزہ لینے کے لیے ڈیٹا انالیسس سنٹر قائم کرنے کے بھی احکامات دیے گئے۔
مزید پڑھیں‌:شوگر ملز ایسوسی ایشن کا اہم حکومتی مطالبہ سامنے آ گیا

متعلقہ خبریں