لاہور ( اے بی این نیوز )مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے سیاسی صورتحال اور تحریک انصاف کی ممکنہ سٹریٹ موومنٹس پر تفصیلی بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی خوش آمدید کہا گیا، اور ان سے ان افراد کے نام لیے گئے جو پنجاب اسمبلی میں شامل ہونا چاہتے تھے۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں کسی بڑی سٹریٹ موومنٹ کے امکانات نظر نہیں آتے اور بہتر ہوتا کہ سیاسی معاملات پہلے ہی بہتر انداز میں مینج کیے جاتے۔ انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے اپنائے گئے مہذب رویے کو سراہا اور واضح کیا کہ سندھ حکومت کی اجازت سے جلسہ یا سیاسی سرگرمی غیر قانونی نہیں ہے۔
مسلم لیگ (ن) رہنما نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ 8 فروری کو پہیہ جام ہڑتال کرنا چاہتے ہیں، جو قانون کے دائرے میں ممکن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور اس سفر کو غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ قانون کسی بھی قسم کی جبری بندش کی اجازت نہیں دیتا۔رانا ثنا اللہ نے پشاور جلسے میں شرکت کی تعداد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چند ہزار سے زیادہ افراد شریک نہ ہو سکے، اور 8 فروری یا کسی اسٹریٹ موومنٹ میں ناکامی سیاسی نقصان کا سبب بن سکتی ہے، جس سے حکومت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
انہوں نے 9 مئی کے حوالے سے بھی کہا کہ اسے منظم آپریشن قرار دینا جھوٹ اور گمراہ کن ہے، اور اس میں ملوث افراد سے لاتعلقی کے دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کے پی کے میں قیادت کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور کراچی و لاہور میں سٹریٹ موومنٹس کے واضح آثار نہیں نظر آتے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر حل کرنا چاہیے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی برقرار رہے۔
مزید پڑھیں :تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں،جا نئے کتنا اضافہ ہوا















