اسلام آباد( اےبی این نیوز) پی ٹی آئی رہنمافیصل چودھری نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے آج کراچی میں سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیاجس پرسیاسی پختگی کو فروغ ملنا چاہیے، پیپلز پارٹی کی قیادت داد کی مستحق ہے اورپیپلز پارٹی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا جس انداز میں استقبال کیا وہ قابلِ تحسین ہے.پنجاب میں کل گلو بٹ کلچر کے مظاہرے کی مذمت ہونی چاہیے،افسوسناک رویوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے، سیاسی بلوغت ضروری ہےجبکہ اختلافات کا حل تصادم نہیں، سیاسی میچورٹی سے ممکن ہےجب آپ حکومت میں ہو تو مخالفین کو جگہ دینا سیاسی روایت ہے.
اے بی این کے پروگرام ’’ڈی بیٹ @8میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل چودھری نے کہا کہ سندھ میں آج جو ہوا وہ پورے پاکستان میں ہونا چاہیے اورپنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی مکالمے کا آغاز ہونا چاہیے،ایک میز پر بیٹھ کر بات کرنے سے سیاسی درجہ حرارت کم ہوگا،پولیس کے بجائے سیاسی قیادت کو آگے لایا جاتا تو بہتر پیغام جاتا
حکومت میں ہو تو تحمل اور برداشت زیادہ دکھانا پڑتی ہے،سیاسی درجہ حرارت کم کرنا حکومت کی بڑی ذمہ داری ہےجبکہ اختلافات کا حل بات چیت اور مکالمے سے ہی ممکن ہے اورسیاست میں آگے بڑھنے کا واحد راستہ مذاکرات ہے، تصادم نہیں.
انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت سیاسی، معاشی اور انتظامی بحرانوں کا شکار ہے،دہشتگردی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اوردشمن سرحدوں پر بیٹھا ہے، اندرونی انتشار خطرناک ہے جس کے لیےقومی مسائل کا حل صرف سیاسی انداز میں آگے بڑھنے میں ہے اورٹمپریچر کم رکھنا پی ٹی آئی کی بھی ذمہ داری ہےمگر بطور حکومت زیادہ ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے.
دوسری جانب ،صدر مسلم لیگ ن سندھ بشیر میمن نے کہا کہ ریسٹ ایریا پر پولیس سیکیورٹی پر بھی نامناسب زبان استعمال کی گئی اوراختلاف رائے برداشت کرنے کی عادت نظر نہیں آتی جبکہ صحافی کے سوال پر گالیاں دینا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے،پشاور میں گورنر فیصل کریم کنڈی کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ اپنایا گیا اورپنجاب میں پیپلز پارٹی کے گورنر کے ساتھ ناروا سلوک افسوسناک ہے.
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت کہلانے والے سیاسی رویہ اپنانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اسمبلی یا عوامی مقام پر بدتمیزی فاشسٹ رویے کی عکاسی ہے جس طرحاختلاف کا جواب دلیل سے ہونا چاہیے، گالی سے نہیں.
تیسری جانب ،سینئر رہنما پیپلزپارٹی تیمور تالپور نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک حقیقی جمہوری جماعت ہے، جو کہتی ہے وہی کر کے دکھاتی ہےکئی جماعتیں بات کچھ اور عمل کچھ اور کرتی ہیں، پیپلز پارٹی کا ریکارڈ مختلف ہے اورماضی میں مریم نواز کے کراچی دورے پر بھی پیپلز پارٹی نے جمہوری رویہ اپنایا تھا اسی طرح سیاسی اختلافات کے باوجود جمہوری حقوق کا احترام ضروری ہے،سندھ حکومت ہر جماعت کو پرامن جلسے اور احتجاج کی اجازت دے گی احتجاج جمہوری حق ہے، مگر پبلک اور پرائیویٹ املاک کو نقصان قابل قبول نہیں.تشدد اور توڑ پھوڑ ایک بدنما داغ ہے جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ پیپلز پارٹی نظریاتی اختلافات کے باوجود جمہوری آزادیوں پر یقین رکھتی ہے.
انہوںنے کہا کہ عمرانخان کی سیاست سے اختلاف اپنی جگہ، جمہوری حق سب کا ہے اورسندھ حکومت امن، برداشت اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے،جمہوریت میں ٹوپی اور اجرک نہیں، انصاف اور عمل اصل معیار ہیں.حکومت چاہتی تو ایئرپورٹ سے ہی گرفتاری ہو سکتی تھی، مگر جمہوری رویہ اپنایا گیا،وزیراعلیٰ کے استقبال میں سندھ کی روایت کے مطابق اجرک اور ٹوپی پیش کی گئی،صوبائی وزیر سعید غنی نے سندھ حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے استقبال کیا.
تیمور تالپور کا کہنا تھا کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کا دوسرے صوبے میں احترام جمہوری روایت ہے،جن سرگرمیوں کی اجازت مانگی گئی، سندھ حکومت نے سب کی منظوری دی ہے .راستے بند کرنے یا عوام کو تکلیف دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی.
مزید پڑھیں:پچاس ہزار ماہانہ انٹرن شپ حاصل کریں،جا نئے کون اہل اور کیسے اپلائی کیا جائے















