اہم خبریں

پاکستان میں ٹیکس نظام پر سوال اٹھ گئے، تنخواہ دار افراد مجبور باقی کی عیش،جا نئے تفصیلی رپورٹ

اسلام آباد(اے بی این نیوز     ) رواں مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران پاکستان کے تنخواہ دار طبقے نے مجموعی طور پر 266 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں قومی خزانے میں جمع کرائے، جو ملک بھر سے وصول ہونے والے کل انکم ٹیکس کا تقریباً دس فیصد بنتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار طبقے کا ادا کردہ ٹیکس گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نو فیصد زیادہ ہے، جو اس طبقے پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی واضح علامت ہے۔ اس کے برعکس اسی مدت میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے صرف 126 ارب روپے انکم ٹیکس وصول ہو سکا، جو تنخواہ دار طبقے کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے۔

یہ فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں ٹیکس نظام متوازن اور منصفانہ نہیں۔ تنخواہ دار افراد اپنی مجموعی آمدن کا تقریباً 38 فیصد ٹیکس کی صورت میں ادا کرنے پر مجبور ہیں، جو نہ صرف خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے بلکہ ملک کے اندر رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل جیسے بڑے اور منافع بخش شعبوں سے بھی کئی گنا زیادہ بنتا ہے۔

یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے اور ان شعبوں کو بھی مؤثر طریقے سے ٹیکس دائرے میں لایا جائے جو برسوں سے رعایتوں اور کمزور نفاذ کے باعث کم ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ بصورت دیگر تنخواہ دار طبقے پر بڑھتا ہوا ٹیکس بوجھ معاشی بے چینی، قوتِ خرید میں کمی اور سماجی عدم اطمینان کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں :خوشخبری ،اولڈ ایج پنشن کی ادائیگی،وفاقی آئینی عدالت کا بڑا حکم آگیا،جا نئے کیا

متعلقہ خبریں