اسلام آباد ( اے بی این نیوز )سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد اب چاندی بھی عام صارف کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اسی پس منظر میں ایک ایسی دھات تیزی سے مقبول ہو رہی ہے جو دیکھنے میں بالکل چاندی جیسی ہے، مگر قیمت میں کہیں زیادہ سستی ہے۔ اس دھات کو عام طور پر جرمن چاندی یا جرمن سلور کہا جاتا ہے، تاہم نام کے باوجود یہ اصل چاندی نہیں ہوتی۔ماہرین کے مطابق جرمن چاندی دراصل دھاتوں کا ایک مرکب ہے جس میں تقریباً 60 فیصد تانبا، 20 فیصد نکل اور 20 فیصد زنک شامل ہوتا ہے۔ یہی امتزاج اسے چاندی جیسی چمک دیتا ہے، جس کی وجہ سے عام خریدار باآسانی دھوکہ کھا سکتا ہے۔ چونکہ یہ دھات سب سے پہلے جرمنی میں تیار کی گئی تھی، اسی لیے اسے جرمن سلور کہا جاتا ہے، جبکہ سائنسی زبان میں اسے نکل سلور بھی کہا جاتا ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ چاندی کی قیمت بڑھنے کے بعد لوگ کم خرچ میں چاندی جیسی اشیا خریدنے کے لیے جرمن چاندی کا رخ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک کلو خالص چاندی سے بنا گلدان جہاں دو لاکھ روپے سے زائد میں پڑتا ہے، وہی ڈیزائن جرمن چاندی میں محض چند ہزار روپے میں دستیاب ہو جاتا ہے۔ یہی قیمت کا فرق جرمن چاندی کو متوسط طبقے کے لیے پرکشش بنا رہا ہے۔جرمن چاندی کا استعمال زیادہ تر آرائشی اشیا، گھریلو سجاوٹ، عبادت گاہوں کی اشیا، تحفہ تحائف اور نقلی زیورات میں کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں نوجوانوں میں جرمن چاندی کے زیورات جیسے بالیاں، چوڑیاں، زنجیریں اور بریسلیٹ خاصے مقبول ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ دھات نرم ہونے کی وجہ سے سائنسی آلات اور صنعتی پرزہ جات میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
چاندی اور جرمن چاندی میں فرق پہچاننے کے لیے ماہرین چند آسان طریقے بتاتے ہیں۔ اگر کسی برتن یا زیور کی اوپری سطح کو ہلکا سا رگڑا جائے تو اندر کا رنگ ظاہر ہو جاتا ہے۔ خالص چاندی اندر سے بھی وہی رنگ رکھتی ہے، جبکہ جرمن چاندی میں تانبے یا پیتل کا رنگ صاف نظر آنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ خالص چاندی پر عام طور پر 925، سٹرلنگ سلور یا ہال مارک کی مہر ہوتی ہے، جبکہ جرمن چاندی پر ایسی کوئی سرکاری مہر یا بی ایس آئی سرٹیفیکیٹ موجود نہیں ہوتا۔تاجروں کا کہنا ہے کہ جرمن چاندی کی کوئی ری سیل ویلیو نہیں ہوتی اور یہ سرمایہ کاری کے زمرے میں نہیں آتی۔ تاہم اس کی ایک خوبی یہ ہے کہ اگر وقت کے ساتھ اس کی چمک کم ہو جائے تو اسے دوبارہ پالش کر کے استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ چونکہ جرمن چاندی میں نکل شامل ہوتی ہے، اس لیے جن افراد کو نکل سے الرجی ہو، ان کے لیے یہ جلدی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کھانے پکانے کے برتنوں کے بجائے سجاوٹ اور زیورات تک محدود رکھنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ تیزابی اشیا کے ساتھ اس کا استعمال یا رکھنا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں :5 بڑوں کی بیٹھک؟خواجہ آصف کا موقف سامنے آگیا،جا نئے کیا















