اسلام آباد ( اے بی این نیوز )پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں موجودہ تقسیم اور رہنماؤں کے رویوں کی وجہ سے ملکی سیاست میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ 5 بڑوں کی بیٹھک میں دیانتداری اور واضح رویے کی بہت اہمیت ہے، لیکن پی ٹی آئی کے بانی کا موقف مختلف ہے اور وہ صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ان کے مطابق بانی اپنی ذات سے سوچنا شروع کرتے ہیں اور یہی سوچ اختتام تک جاری رہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے پی ٹی آئی مختلف رنگ دکھا رہی ہے اور اس میں خود ہی تقسیم پیدا ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے کچھ لوگ مذاکرات کی بات کرتے ہیں جبکہ کچھ تصادم کی طرف راغب ہیں۔ ایسے حالات میں یہ پارٹی 5 بڑوں کی بیٹھک میں کیسے مؤثر طریقے سے شامل ہو سکتی ہے، یہ سوال اہم ہے۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ مفاہمت اور بات چیت کے لیے ایجنڈا کون طے کرے گا، کیونکہ بانی پی ٹی آئی کا مفاہمت یا گفتگو کا کوئی واضح ایجنڈا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق کوئی گارنٹی دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہے، حتیٰ کہ اپنے گھر کے افراد بھی اس بارے میں ضمانت نہیں دے سکتے۔
خواجہ آصف نے وفاق پر حملے کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے اور کہا کہ اس نوعیت کی باتیں گزشتہ دو سال سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض رہنما اعتماد کے ساتھ بانی پی ٹی آئی سے متعلق باتیں کر رہے ہیں، جیسے کہ محمود اچکزئی، اور وہ اس اعتماد کی وجوہات کو بھی جاننے کے خواہشمند ہیں۔
مزید پڑھیں :راولپنڈی سے اسلام آباد سفر کرنے والوں کے لیے ٹریفک ایڈوائزری جاری















