اسلام آباد (نیوز ڈیسک)22 دسمبر کے بعد پاکستان نے روس، چین اور ایران کی طرز پر شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ایکس (سابقہ ٹوئٹر) تک غیر محدود رسائی کے لیے وی پی این کے استعمال پر پابندیاں سخت کر دی ہیں۔ تاہم ان پابندیوں کے باوجود بڑی تعداد میں صارفین اب بھی مختلف طریقوں سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔
ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین کے مطابق کئی صارفین ProtonVPN سمیت دیگر وی پی این سروسز کے ذریعے ان پابندیوں کو بائی پاس کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسے صارفین کی جانب سے تجربات اور احتیاطی تجاویز شیئر کی جا رہی ہیں جن کا مقصد انٹرنیٹ تک بلا رکاوٹ رسائی برقرار رکھنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وی پی این پر پابندیوں کے بعد پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جہاں انٹرنیٹ کنٹرول اور سنسرشپ کے اقدامات بڑھائے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے اظہارِ رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل پرائیویسی سے متعلق سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔
دوسری جانب صارفین کا مؤقف ہے کہ معلومات تک آزاد رسائی ان کا بنیادی حق ہے، اسی لیے وہ تکنیکی متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ فریڈم سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ مکمل پابندیاں عملی طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوتیں اور صارفین نت نئے طریقوں سے راستہ نکال لیتے ہیں۔
ابھی تک حکومتی سطح پر وی پی این استعمال سے متعلق مزید سخت اقدامات یا وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
Since December 22nd, Pakistan has followed countries like Russia, China, and Iran in blocking their citizens from using VPNs for uncensored access to X and other social media. But people are getting through. Here are some tips on how to use @ProtonVPN to circumvent these blocks. pic.twitter.com/5ZLX5yRomA
— David Peterson (@davidgpeterson) January 4, 2026















